text
stringlengths 52
186k
|
|---|
مفتی محمد نعیم کی وفد کے ہمراہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے ملاقات | Geo Urdu مفتی محمد نعیم کی وفد کے ہمراہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے ملاقات Posted on February 23, 2016 By Majid Khan سٹی نیوز, کراچی Mufti Mohammad Naeem,Meeting کراچی : جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمد نعیم کی علماء کے وفد کے ہمراہ اسلام آباد بنی گالہ میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے اہم ملاقات مدارس دینہ کیخلاف حکومتی اقدامات اور ملکی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اس موقع پر مفتی محمدنعیم نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو کراچی کے دینی مدارس کے دوروں کی دعوت دی جس کو انہوں نے قبول کر لیا۔ اس موقع پر جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمد نعیم نے کہا کہ مدارس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں پھر بھی مدارس کو تنگ کیا جارہاہے رجسٹریشن کے حوالے متفقہ ضابطہ طے کرنے میں حکومت ناکام رہی ہے ہمارا اختلاف ضابطے پر ہے جو حکومت طے نہیں کررہی اگر کربھی لیا جاتاہے تو صوبائی اور ضلعی سطح پر اسے سپوتاژ کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں ، ہمیں مدارس کے حساب وکتاب آڈٹ کرنے میں کوئی حرج نہیں نہ ہی ہم نے کبھی انکار کیاہے ، نصاب کی تبدیلی کی بات کی جاتی ہے جبکہ دینی مدارس کا نصاب عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق ہے،انہوںنے کہاکہ ملک بالخصوص پنجاب میں مدارس اور مذہبی طبقے کیخلاف اندھادھند کاروائیاں ہورہی ہیں اور علماء کرام کو جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔ اسے فوری طور پر آپ رکوانے میں کردار ادا کریں اور علماء کے قاتلوں بالخصوص تعلیم القرآن راجہ راولپنڈی سانحہ کے ذمہداروں کو سامنے لاکر کیفر کردارتک پہنچایا جائے ،ملک بھرکے اسکولوں میں عربی مضمون کا لازم قرار دیاجائے صوبہ خیبر پختونخواہ میں آپ کی حکومت ہے آپ کیلئے یہ مشکل نہیں، حکومت کو صرف اسکولوں اور کالجز کی سیکورٹی کی فکر ہے کیا دینی مدارس کے طلبہ واساتذہ انسان اور پاکستانی نہیں کسی بھی فورم میں ان کی سیکورٹی کے حوالے سے کوئی سیاستدان بات کیوں نہیں کرتا، انہوں نے کہاکہ ملک بھر بالخصوص شہر قائد میں سیکڑوں علماء کرام کو قتل کرلیا گیا لیکن ان کے قاتلوں کا آج تک کوئی سراغ نہیں مل سکا اور نہ ہی کسی قاتل کو سزا دی گئی ، انہوںنے کہاکہ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں تبلیغی وفود پر پابندی عائدکرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ دہشت گردی کا سبب مذہب ہے ، انہوںنے کہاکہ مدارس کے فضلاء پر سرکاری ملازمتوں کے دروازے بند ہیں حکومت کو اس موضوع پر بھی بات کرنی ہوگی ، مدارس میںتعلیم کیلئے آنے والے غیر ملکی طلبہ کے ویزوںپر پابندی عائد کی گئی تھی جوتاحال برقرار ہے۔ اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ میرے بارے میں مذہبی طبقے میں شکوک وشبہات پیدا کیے جارہے ہیں اور مجھ پر قادیانی نوازی کے الزامات لگائے جاتے ہیں جوکہ بے بنیاد اور پی ٹی آئی کیخلاف پروپیگنڈہ ہے میں اس الزام کو مسترد کرتاہوں، کچھ سیاسی علماء ہیں جو پی ٹی آئی سے خوفزدہ ہوکر پی ٹی آئی کو یہودیت کی حامی قرار دے کر مذہبی طبقے کو پی ٹی آئی سے دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں اللہ کے فضل کرم سے پورے ملک کا مذہبی طبقہ پی ٹی آئی کے ساتھ ہے،ا نہوںنے کہاکہ علماء کرام پی ٹی آئی کا ساتھ دیں ہم KPKکی طرح پورے ملک کی تقدیر بدلنا چاہتے ہیں، انہوںنے کہاکہ خیبر پختونخواہ میں کرپشن کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کیے جارہے ہیں ، حکومت کیخلاف انکوائری میں نیب کیساتھ کھڑے ہیں۔ کرپشن کرنے والوں کا احتساب ہونا چاہئے،احتساب کے راستے ہیں رکاوٹ نہیں آنے دیں گے،انہوں نے کہاکہ مذہبی طبقے سمیت وفاقی حکومت سے کوئی بھی خوش نہیں عوام ان حکمرانوں سے نجات چاہتے ہیں ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہاکہ میرے خلاف تمام الزامات بے بنیاد ہیں میں مذہبی طبقے کی عزت کرتاہوں اور سمجھتا ہوں کہ مدارس یا مذہبی طبقے کو دہشت گردی کا ذمہ دار ٹہرانا درست نہیں ، دہشت گردی کے ذمہ دار مدارس نہیں بلکہ کرپٹ حکمران ہیں، جو بادشاہ بن کر نسل درنسل مسلط ہوتے رہے ہیں ، انہوںنے مزید کہاکہ KPKمیںمیں مدارس کے طلبہ کی اسناد اور مسائل کے حوالے سے جلد مسائل حل کرلئے جائیں گے۔ عصری اداراسکولوں میں عربی کے مضمون کو لازمی قرار دیا جائے گا اورمدارس کی رجسٹریشن اور غیر ملکی طلبہ کے ویزوںپر پابندی کی مسئلے اور دیگرتمام مسائل کو پارلیمنٹ میںاٹھائیں گے ،، آخرمیں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمدنعیم مفتی محمدنعیم صاحب وفد کے ہمراہ میرے پاس آئے میں ان کا شکریہ اداکرتاہوں ۔ ،وفد میں معروف عالم دین مفتی محمد سعید خان ، مولانا سیف اللہ ربانی ، مولانا فرحان نعیم سمیت دیگر علماء کرام شامل تھے۔ انٹرا پارٹی انتحابات کسی صورت ملتوی نہیں ہونا چاہئیں۔ انجینئر افتخار چودھری کراچی کے علاقے لانڈھی میں رینجرز کی کارروائی، 2 بھتہ خور گرفتار
|
موجودہ حکومت کے غریب عوام کے لیے اقدامات۔۔چوہدری محمد ایوب | مکالمہ ایک نجی بیٹھک میں دوستوں کے ساتھ گپ شپ ہورہی تھی اور مختلف ادوار میں مختلف حکومتوں کی طرف سے عوام کو ریلیف دینے کے لیے شروع کیے گئے پروگرامز، لیپ ٹاپ، سستی روٹی،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام یا اب موجودہ گورنمنٹ کی طر ف سے شیلٹر ہومز اور لنگر خانے وغیرہ، یہ وہ چیزیں ہیں جن سے عام آدمی کو تو شاید فائدہ نہیں پہنچا بلکہ ان میں کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی کرپشن ضرور ہو جاتی ہے اور بعد میں آنے والی حکومتیں پچھلی حکومتوں پر الزام لگاتی دکھائی دیتی ہیں۔ ان تمام پروجیکٹس پر اربوں روپیہ خرچ کیا گیا لیکن اس سے کچھ حاصل نہ ہوسکا۔ ان کی بجائے اگر گورنمنٹ ہر ضلع میں سرکاری اراضی پر 4 ۔ 5 ارب روپے لاگت سے ایک ایک بڑا صنعتی یونٹ لگائے تاکہ گورنمنٹ کے اثاثے بھی بن جائیں اور ہر ضلع میں 4 سے 5 ہزار لوگوں کو روزگار بھی ملے اور وہ کما کر کھانے کے عادی ہوں ،نہ کہ مانگ کر۔ موجودہ حکومت شیلٹر ہومز کے نام سے نئی انویسٹمنٹ کرنے کی بجائے اوقاف کی پہلے سے موجود پراپرٹیوں کو خالی کروا کر وہاں پر مسافروں کے رات گزارنے کا بندوبست کرے اور ملک میں پہلے سے کام کرنے والی سماجی تنظیموں کو وہاں پر کھانے کا بندوبست کرنے کی ذمہ داریاں سونپ دے۔ گورنمنٹ کو قوم کا ایک ایک روپیہ بچانا چاہیے۔ اس طرح یہ حکومت آنے والے سالوں میں حزیمت سے بھی بچ جائیگی اور دوسری طرف یہی سرمایہ انڈسٹری میں لگا کر وہ لاکھوں لوگوں کے لیے روزگار پیدا کرے گی ،جو اس حکومت کا وعدہ ہے۔ نئی انڈسٹریل سٹیٹس بنانے اور فارن انویسٹمنٹ لانے پر کام تو ہو رہا ہے ،لیکن اس پر مزید مربوط اقدامات کی ضرورت ہے، پہلے ہمیں ملک میں انڈسٹری کے لیے ماحول سازگار بنانے کی ضرورت ہے۔ کم از کم ان انڈسٹریل سٹیٹس میں انڈسٹری لگانے کے لیے بہت زیادہ اداروں سے سرٹیفکیٹس لینے کی ضرورت ہرگز نہیں ہونی چاہیے، مختلف دفاتر کے چکر لگوانے کی بجائے سٹیٹس کے دفتروں میں ہی ون ونڈو آپریشن ہونا چاہیے۔ ایک بہت اہم مسئلہ ہے، پاکستانیوں کا مزاج کبھی بھی ٹیکس دینے والا نہیں رہا، اکثریت کے پاس جو سرمایہ ہے وہ بلیک منی ہے اور وہ سارا منجمد ہو کر رہ گیا ہے۔ زیادہ تر لوگ کاروباری حالات کی تنگی کا ذکر بھی اسی وجہ سے کر رہے ہیں۔ اس سرمائے کو کیسے جائز کیا جائے؟ لوگوں کو رقوم باہر نکال کر ڈاکومنٹڈ بزنس میں انویسٹ کرنے پر آمادہ کیا جانا چاہیے۔ اس اہم ایشو پر حکومت کی طرف سے کوئی حکمت عملی نظر نہیں آرہی ہے۔ یقیناً بین الاقوامی معاملات کچھ اس طرح کے ہیں کہ خان صاحب کی ترجیح دوسرے فوری توجہ طلب امور کی طرف ہو سکتی ہے، لیکن خان صاحب نے حکومت سنبھالنے کے فوراً بعد جو اقدامات کیے تھے اور مختلف محکموں کو جو جو احکامات دیئے تھے ان پر نظر رکھنے اور ان سے فیڈ بیک لیتے رہنے سے ہی معاملات آگے بڑھیں گے، ذرا سی نرمی ان اداروں کو دوبارہ غفلت کی نیند سلا دے گی اور پلک جھپکنے میں حکومت کے 5 سال گز جائیں گے۔
|
’’ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد‘‘ | مولانا زاہد الراشدی سرورق » پاکستان ۔ دینی جدوجہد » ’’ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد‘‘ ۷ مئی ۲۰۰۱ء اقبالؒ نے کسی دور میں مسجد و خانقاہ کی چار دیواری میں محدود رہنے والے اور معاشرتی زندگی سے لاتعلق اور بے پروا ہوجانے والے ملا کے بارے میں کہا تھا کہ انقلابِ زمانہ کا کرشمہ دیکھیے کہ اب ’’نادانی‘‘ کا یہ منصب ملا سے چھن کر جسٹس کی گود میں چلا گیا ہے۔ کچھ عرصہ سے ملک میں مغرب اور ہند کی ثقافتی یلغار، نئی نسل کو بے راہ روی کی دلدل میں دھکیلنے والے ثقافتی پروگراموں اور اسلام کی معاشرتی اقدار کی مسلسل پامالی کے حوالے سے ہمارے بعض جج صاحبان کے جو فیصلے سامنے آرہے ہیں انہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ’’عدالت‘‘ کے منصب پر فائز بیشتر حضرات کو سرے سے اس بات کی خبر ہی نہیں ہے کہ ہمارا معاشرہ کسی تبدیلی کا شکار ہو رہا ہے، اقدار و روایات الٹ پلٹ رہی ہیں اور مغرب و ہند نے اس کے لیے باقاعدہ ایجنڈا طے کر رکھا ہے جس پر پوری سنجیدگی کے ساتھ عمل ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ وہ اس بات سے بھی بظاہر بے خبر دکھائی دیتے ہیں کہ جس قرآن و سنت کو اسی دستور میں قانون سازی کا سرچشمہ قرار دیا گیا ہے جس کی پاسداری کا انہوں نے حلف اٹھا رکھا ہے، اس قرآن و سنت نے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی اور معاشرتی کردار کے بارے میں بھی کچھ ہدایات دے رکھی ہیں، اور ان ہدایات کی پاسداری اور ان پر عملدرآمد کا اہتمام ہم سب کی ذمہ داری کے دائرہ میں آتا ہے۔ اس لاعلمی اور بے پرواہی کا تازہ ترین شاہکار لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خلیل الرحمان رمدے کا یہ فیصلہ ہے جو ایک شہری محمد مودی کی طرف سے اسلامی نظام کے عملی نفاذ کے سلسلہ میں دائر کردہ رٹ کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے صادر فرمایا ہے۔ درخواست گزار نے اپنی رٹ میں تقاضا کیا تھا کہ چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ ملک میں نفاذ اسلام کے لیے عملی اقدامات کریں اور انتخابات نظام مصطفٰیؐ کے تحت کرائیں جسے فاضل جج نے بے بنیاد قرار دیتے ہوئے یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ ملک کے دستور میں نفاذ اسلام کے لیے بہت سی شقیں موجود ہیں، بہت سے اسلامی قوانین ملک میں نافذ ہیں، کسی کو نماز پڑھنے، روزہ رکھنے اور زکوٰۃ ادا کرنے سے نہیں روکا جا رہا اور وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل موجود ہیں اسلیے اب یہ ذمہ داری عوام کی ہے کہ وہ اپنی زندگیاں اسلامی اصولوں کے سانچے میں ڈھالیں۔ فاضل جج نے اپنے فیصلے میں یہ سوال بھی کیا ہے کہ ’’ملک میں اسلامی اصولوں کے نفاذ کے لیے حکومت کی طرف سے کون سی کوشش بروئے کار نہیں لائی گئی اور اسلام کا کون سا مخصوص حصہ نافذ نہیں کیا گیا؟‘‘ اس فیصلہ کے بہت سے پہلوؤں کے بارے میں کچھ نہ کچھ عرض کرنے کی گنجائش اور ضرورت موجود ہے مگر ان میں سے صرف تین امور پر چند گزارشات پیش کرنے کی جسارت کی جا رہی ہے۔ جہاں تک نماز، روزہ اور زکوٰۃ سے کسی کو نہ روکنے کا تعلق ہے، فاضل عدالت سے بہتر کون جانتا ہے کہ یہ رکاوٹ برطانوی استعمار کے دور میں بھی موجود نہ تھی۔ مسجدیں آباد تھیں، روزے رکھے جاتے تھے، لوگ زکوٰۃ آزادانہ دیتے تھے، حج کے لیے جاتے تھے اور عبادات کے زمرہ کے دینی احکام پر کسی رکاوٹ کے بغیر عمل ہوتا تھا۔ بلکہ یہ سہولت اور آزادی تو آج عالم اسلام کے بدترین دشمن اسرائیل کی حکومت نے بھی اپنے ملک میں رہنے والے مسلمانوں کو فراہم کر رکھی ہے۔ تو کیا انہیں بھی یہی مشورہ دے دیا جائے کہ وہ نماز، روزہ اور زکوٰۃ وغیرہ کی اس آزادی پر قناعت کرتے ہوئے اس سے زیادہ کے لیے شور مچانا بند کر دیں ورنہ ان کی جدوجہد ’’بے بنیاد‘‘ قرار پائے گی؟ فاضل جج کا یہ ارشاد کہ حکومت نے اسلامی قوانین نافذ کر دیے ہیں اور ان پر عمل کرنا اب صرف عوام کی ذمہ داری ہے، بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ مگر ان میں سے صرف ایک سوال ان کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے کہ دستور و قانون کے اسلامی حصوں کے علاوہ ملک کے باقی مروجہ قوانین کے بارے میں بھی کیا وہ یہی ریمارکس دینے کے لیے تیار ہیں؟ ملک میں تمام متعلقہ اور ضروری معاملات کے لیے قوانین نافذ ہیں اور دستور و قانون میں عوام کی ذمہ داریاں پوری وضاحت کے ساتھ بیان کر دی گئی ہیں۔ اس لیے اگر انصاف کا تقاضہ یہی ہے کہ حکومت قوانین کے اعلان کے ساتھ ہی اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہو جاتی ہے اور ان پر عملدرآمد صرف عوام کی ذمہ داری قرار پاتا ہے تو فاضل جج کو اس بات کی بھی وضاحت کر دینی چاہیے کہ پھر انتظامیہ اور عدلیہ کی سرے سے ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے؟ بلکہ خود حکومت کے وجود کا بھی کیا جواز باقی رہتا ہے؟ ہم فاضل عدالت کے اس سوال کے جواب میں بھی کچھ عرض کرنا چاہیں گے کہ اسلام کا کون سا حصہ نافذ نہیں کیا گیا؟ اس کے جواب میں اسلام کے ان حصوں کی فہرست تو طویل ہے جو صرف عملاً نہیں بلکہ دستور و قانون کے لحاظ سے بھی ملک میں نافذ نہیں ہیں مگر ان میں سے چند ایک کا تذکرہ فاضل عدالت کی معلومات کے لیے مناسب معلوم ہوتا ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے عیسائیوں کے ساتھ معاہدہ کر کے انہیں اسلامی ریاست کے شہری کے طور پر قبول کیا تھا تو معاہدہ میں شرط لگا دی تھی کہ وہ اسلامی ریاست میں سودی کاروبار نہیں کریں گے ورنہ ان کے ساتھ کیا گیا معاہدہ منسوخ ہو جائے گا۔ فاضل عدالت کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ہمارے ملک میں اسلام کا یہ حصہ نافذ نہیں ہے اور سود کا کاروبار صرف غیر مسلم نہیں بلکہ خود مسلمان اور حکمران بھی کر رہے ہیں۔ اور حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود اسے ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں اپنے ایک صحابیؓ کو ننگے بدن پر چھڑی مار دی جس سے اس کے جسم پر خراش آگئی، اس نے بدلے کا مطالبہ کیا تو آنحضرتؐ نے کسی تکلف کے بغیر چھڑی اس کے ہاتھ میں دے کر اپنا بدن اس کے آگے کر دیا تاکہ وہ بدلہ لے سکے۔ مگر ہمارے ہاں پروٹوکول اور پرسٹیج کے عنوان سے حکومتی اور عدالتی مناصب پر فائز لوگوں کی ایک بڑی تعداد عدالتی احتساب سے بالاتر ہے اور اسلام کا یہ حصہ بھی ہمارے ہاں نافذ نہیں ہے۔ بنو مخزوم کی فاطمہؓ نامی خاتون چوری میں پکڑی گئی اور جرم ثابت ہوگیا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ بعض صحابہؓ نے سفارش کرنا چاہی کہ معزز خاندان کی عورت ہے، ہاتھ کاٹنے سے خاندان کی بدنامی ہوگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت غصے کا اظہار فرمایا اور کہا کہ اگر خدانخواستہ میری بیٹی فاطمہؓ بھی (نعوذ باللہ) چوری کرے تو اس کا ہاتھ بھی ضرور کاٹوں گا۔ مگر ہمارے ہاں قانون کی عملداری کا اطلاق سب لوگوں کے لیے یکساں نہیں ہے جو کہ ہر شخص کو نظر آرہا ہے۔ جس مجرم کو کوئی معقول سفارش میسر ہے یا جس میں ’’ڈیل‘‘ کی صلاحیت موجود ہے وہ جرم ثابت ہونے پر بھی سزا سے محفوظ رہتا ہے اور اس طرح اسلام کا یہ حصہ بھی ہمارے ہاں نافذ نہیں ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ خلیفہ بنے اور بیت المال سے ان کی تنخواہ طے کرنے کا موقع آیا تو خلافت راشدہ کی مجلس شوریٰ نے یہ اصول طے کیا کہ انہیں مدینہ منورہ کی آبادی میں سے متوسط درجہ کے شہری کے معیار کے مطابق وظیفہ اور سہولتیں فراہم کی جائیں گی چنانچہ اسی بنیاد پر ان کی تنخواہ طے کی گئی۔ مگر ہمارے ہاں معیار زندگی اور تنخواہوں میں ہوش ربا تفاوت ہے کہ ملک کے ایک شہری کو سرکاری خزانے سے دو ہزار روپے تنخواہ بھی نہیں ملتی جبکہ اسی ملک کا دوسرا شہری لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ اور اس سے کہیں زیادہ سہولتیں سرکاری خزانے سے وصول کرتا ہے جس سے معاشرہ خوفناک طبقاتی تقسیم کا شکار ہو کر رہ گیا ہے اور اس طرح اسلام کا یہ زریں اصول بھی ہمارے ہاں نافذ نہیں ہے۔ خلیفہ ثانی حضرت عمرؓ بن الخطاب خلافت کے منصب پر فائز ہوئے تو حکم صادر فرمایا کہ ان کی حکومت کا کوئی گورنر یا افسر ترکی گھوڑے پر سوار نہیں ہوگا، باریک لباس نہیں پہنے گا، چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہیں کھائے گا، اور اپنے دروازے پر ڈیوڑھی نہیں بنائے گا۔ ان ہدایات کا مطلب یہ تھا کہ گورنر سمیت تمام اہل کار عام آدمیوں جیسی زندگی بسر کریں گے، ان کے درمیان رہیں گے اور لباس، خوراک اور رہائش میں کوئی امتیازی حیثیت اختیار نہیں کریں گے۔ ان احکامات کی خلاف ورزی پر حضرت عمرؓ اپنے افسروں کو سزا دیا کرتے تھے۔ ایک گورنر کے دروازے پر بنی ہوئی ڈیوڑھی کو آگ لگوا دی اور ایک گورنر کو باریک (امتیازی) لباس پہننے کے جرم میں بکری کے بالوں سے بنا ہوا لمبا چغہ ننگے بدن پر پہنا کر بیت المال کی بکریاں چرانے پر لگا دیا۔ ہمارے ملک میں حکمران کلاس اور رعیت کے درمیان رہن سہن، خوراک اور سواری کے معیار کا کھلم کھلا فرق اس اصول کے منافی ہے اور اسلام کا یہ حصہ بھی ہمارے ہاں نافذ نہیں ہے۔ حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھوک سے مر جائے تو اس کے بارے میں بھی عمرؓ مسئول ہوگا۔ مگر ہمارے ہاں انسان بھوکے مر رہے ہیں، خودکشی کا تناسب بڑھتا جا رہا ہے اور غریب آدمی زندگی کو عذاب سمجھنے لگا ہے مگر کوئی شخص یا طبقہ اس صورتحال کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہے اور نہ ہی اصلاح احوال کے کوئی دلچسپی کسی طبقے میں دکھائی دیتی ہے، اور اس طرح اسلام کا یہ سنہری اصول بھی ہمارے ہاں نافذ العمل نہیں ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلاموں کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا کہ یہ تمہارے بھائی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارا ماتحت بنا دیا ہے اس لیے جو خود کھاؤ ان کو کھلاؤ، جو خود پہنو ان کو پہناؤ، ان کی طاقت سے زیادہ کام ان پر نہ ڈالو اور اگر کوئی کام ان کی طاقت سے زیادہ ہے تو خود ساتھ مل کر کام میں ان کا ہاتھ بٹاؤ۔ ہمارے ہاں مالک اور غلام کا تو کوئی وجود نہیں ہے مگر افسر اور ماتحت، مالک اور ملازم، جاگیردار اور مزارع کا منظر اس سے کہیں زیادہ شرمناک ہے۔ کوئی افسر اپنے ماتحت کے لیے، کوئی مالک اپنے ملازم کے لیے اور کوئی زمیندار اپنے مزارع کے لیے وہ طرز عمل اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہے جس کی جناب رسول اکرمؐ نے ہدایت فرمائی ہے، اس لیے اسلام کا یہ اصول بھی ہمارے ہاں نافذ العمل نہیں ہے۔ پاکستانی مسلمانوں کی غالب اکثریت کے پیشوا اور امام حضرت امام ابوحنیفہؒ نے اصول بیان فرمایا ہے ’’لا رضاء مع الاضطرار‘‘ کہ مجبوری کی حالت میں رضامندی کا کوئی اعتبار نہیں۔ یعنی اگر کوئی شخص کسی معاملہ میں مجبوری اور اضطرار کی وجہ سے اپنے حق سے کم پر رضامند ہو جاتا ہے تو اس کی اس رضامندی کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں ہے اور شرعی طور پر اس معاملہ میں اس کا وہی حق بنتا ہے جو اس کی محنت یا عمل کے لیے معروف طور پر ہونا چاہیے۔ مگر ہمارے ہاں سرکاری و غیر سرکاری اور قانونی و غیر قانونی ہر سطح پر اکثر و بیشتر معاملات کا دارومدار ہی مجبور کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے پر ہے جو کہ امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک اسلامی اصولوں کے منافی ہے۔ اور اس طرح اسلام کا یہ اصول بھی ہمارے ہاں نافذ نہیں ہے۔ ابھی ایسے معاملات کی فہرست طویل ہے، سردست ان چند امور پر اکتفاء کیا جا رہا ہے اس امید پر کہ فاضل عدالت ان کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے کر اپنے مذکورہ فیصلے پر نظرثانی کی ضرورت محسوس کرے گی۔ پاکستان کا اسلامی تشخص اور غیر مسلم اقلیتیں
|
ملکہ کوہسار نے برف سے سنگھار کرلیا ٹرانسپورٹ کا نظام جزوی طور پر متاثر مری کے ہوٹل میں گیس لیکج،سیاح بےہوش اسپتال منتقل مری اورگردونواح میں برفباری،خوبصورتی میں اضافہ موسم مزید سرد آزاد کشمیر، مری میں بارش اور برفباری سردی کی شدت ميں اضافہ ہوگيا ہے طلبہ نے ويسٹ مٹيريل سے ایکسیویٹر مشین بنالی سوشل میڈیا پر بھی ویڈیو تیزی سے وائرل ہوگئی بھوربن میں پھولوں کی نمائش، خوشبو سیاحوں کو کھینچ لائی بھوربن میں سجی پھولوں کی نمائش سے آنے والي خوشبو سياحوں کو اپني طرف کھينچ لائي ۔ قدرت کے حسین رنگوں سے سجے دلکش پھول اور طرح طرح کی خوشبوؤں سے معطر فضا سے ملکہ کوہسار مری میں بہار آگئی ۔ حسین پھولوں کو دیکھنے شہریوں کے ساتھ ساتھ سیاح بھی کھنچے چلے آئے، خاتون… مری میں موسلا دھار بارش سے نالوں میں طغیانی مري میں موسلا دھاربارش سے نالوں میں طغیانی آگئی۔ نواحی علاقوں کا شہر سے زمینی راستہ منقطع ہوگیا۔ مزید دکھیں ظفر اقبال رحیم کی بنائی گئی یہ ویڈیو۔ مری میں پير کے آستانے ميں نوجوان کو مبينہ طور پر خواتین کے حصے میں داخل ہونے پر پیرعظمت شاہ، اس کے بیٹے اور گارڈز نے تشدد کرکے قتل کردیا ۔ نیو مری کے علاقے پٹریاٹہ ميں گزشتہ روز جن نکالنے والے پیر عظمت شاہ کے آستانے پر کوٹلی ستیاں کا رہائشی نوجوان وقاص علي… مری میں سیاحوں کے لیے چئیر لفٹ 10 روز بعد کھول دی گئی مری آنے والے سیاحوں کے لیے پتریاٹہ چئیر لفٹ 10 روز کے بعد آج بروز جمعرات سے سیاحوں کے لیے کھول دی گئی۔ مری میں پتریاٹہ چیئر لفٹ گزشتہ دنوں موسمی خراب سے کیبل کار کے ڈی ریل ہونے کے واقع کے بعد سیاحوں کے لیے بند کردی گئی تھی۔ کیبل کار بھی مرمت اور… ویڈیو : مری میں آرچری چیمپئن شپ کے مرد و خواتین کے دلچسپ مقابلے بھوربن میں جاری 2 روزہ آل پاکستان آرچری چیمپئن شپ دلچسپ مقابلوں کے بعد ختم ہوگئی، مینز اوپن میں پاکستان آرمی کے ادریس مجید جبکہ ویمنز اوپن میں واپڈا کی نگہت ناہید اور بہاولپور کی حنا مہتاب چیمپئن قرار پائیں۔ ویڈیو دیکھیں۔ مری،پیٹریاٹہ کی کیبل گاڑیوں میں پھنسے96سیاحوں کو بحفاظت نکال لیا گیا مری میں پیٹریاٹہ کے مقام پر کیبل گاڑی میں پھنسے تمام افراد کو بحفاظت نکال ليا گيا ہے۔ کئی گھنٹوں سے جاري ريسکيو آپريشن مکمل کرليا گيا ہے۔ حادثے کے دوران 96 سیاح کیبل گاڑی میں پھنس گئے تھے۔ ملک کے مختلف حصوں ميں بارش،موسم خوشگوار، محکمہ موسمیات ملک کے مختلف حصوں ميں بارش نے موسم خوشگوار بناديا۔ ابر رحمت برسنے سے گرمي اور حبس کا زور بھي ٹوٹ گيا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مالاکنڈ، کوہاٹ، کوئٹہ، مکران، ملتان اور کشمیر میں چند مقامات پر بارش ہوئی۔ سب سے زیادہ بارش بارکھان ميں 18 اور مالم جبہ ميں… مری کا دلفریب موسم کئی روز کے خشک موسم کے بعد مری اور گرد و نواح میں گہرے بادل چھا گئے اور ہلکی بوندا باندی سے موسم خوشگوار ہوگیا۔ محکمہ موسمیات نے مری اور گردونواح میں آئندہ 24 گھنٹے کے دوران مزید بارش ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ویڈیو دیکھیں۔ مری کے جنگلات میں آگ لگ گئی، درجنوں درخت خاکستر ملکہ کوہسار میں گھوڑا گلی اور نند کوٹ سینيو کے جنگلات میں آگ بھڑک اٹھی ہے۔ مری کے جنگلات میں لگنے والی آگ نے بڑے حصے کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ محکمہ جنگلات کا عملہ آگ بجھانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ تاہم فائربریگیڈ کی گاڑیوں کو تنگ راستے کے باعث جنگلات تک پہنچنے… ملکہ کوہسار میں برفباری، درجہ حرارت منفی 3 ہوگیا ملکہ کوہسار میں بارش کے بعد برفباری کاسلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ سردی بڑھی تو اسکولوں میں حاضری کم ہوگئی۔ دیکھئے ظفراقبال کی رپورٹ مری میں 10 انچ تک برفباری،درجہ حرارت منفی 3 تک ریکارڈ،محکمہ موسمیات ملکہ کوہسار مری میں 24 گھنٹے سے جاري برفباری کاسلسلہ تھم گیا ہے۔ مری میں خوش گوار موسم کے باعث سياحوں کي بڑي تعداد نے وادی کا رخ کرليا ہے ۔ محکمہ موسميات کے مطابق مري ميں 10 انچ برف پڑچکي ہے۔مری کا درجہ حرارت منفي 3 ريکارڈ کیا گیا ہے۔محکمہ موسميات نے پیشگوئی… مری اور گليات ميں برفباری کا سلسلہ دوبارہ شروع،موسم خوشگوار ملک کے بیشتر علاقوں میں کہیں برفباری اور بارش سے موسم خوشگوار اور سہانا ہوگیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مری اور گليات ميں برفباري کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگيا ہے۔ مری اور چھانگلہ گلی میں 6 انچ تک برف پڑچکی ہے۔ گلیات کی سڑکیں ایک مرتبہ پھرخراب موسم کےباعث بند ہوگئی ہیں۔ برف باری… ملک کے بیشترعلاقوں میں موسم خشک،مری میں درجہ حرارت منفی 6 تک گرگیا ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہے گا،تاہم پنجاب کے میدانی علاقوں اور بالائی سندھ میں رات اور صبح کے اوقات میں دھند پڑنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسميات کے مطابق ملک کے بيشترعلاقوں ميں موسم سرد اورخشک رہے گا،ملک کے بالائي علاقوں ميں سردي کي شدت برقرار رہے گی ،تاہم بالائی… مری اور گرد و نواح میں برف باری کا سلسلہ جاری،ملک کے دیگرعلاقوں میں موسم خشک ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہےگا تاہم ہزارہ ، راولپنڈی ڈویژن ،اسلام آباد، گلگت بلتستان اورکشمیر میں چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے۔ محکمہ موسميات کے مطابق مالاکنڈ ڈویژن ، پشاور، گوجرانوالہ ، فیصل آباد، سرگودھا ، گلگت بلتستان اور کشمیرمیں مزید… مری میں برف باری کے بعد مطلع صاف،ٹھنڈ میں اضافہ،سیاحوں کا رش ملکہ کوہسار مری میں حالیہ برفباری کے بعد مطلع صاف ہوگیا اور سردی مزید بڑھ گئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شمالی علاقہ جات میں سردی بڑھ رہی ہے۔مری میں برف باری نے جہاں شہریوں اور سیاحوں کی موجیں کروائیں وہیں پارہ مزید گر گیا ہے۔ مری کا درجہ حرارت منفی 6 ریکارڈ کیا گیا۔ مری… مری میں برف باری، سیاحوں کا ہلہ گلا ملکہ کوہسار میں 2 روز سے بادلوں کي آنکھ مچولي کے بعد برفباری کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ آسمان سے برستے برف کے گولے کو دیکھ کر سياحوں کے چہرے کھل اٹھے۔ برف باري کے بعد مال روڈ پرمنچلوں کا ہلہ گلہ شروع ہوچکا ہے۔ چھٹي کے باعث سیاحوں کی بڑی تعداد مری ميں موجود… یوٹیوب ویڈیوز پر کلیمز بھیج کر زیادہ پیسے کمائیں لاہور: برقعہ پوش ڈاکو کی واردات کیمرےمیں محفوظ ویڈیو: کیاآپکاتنخواہ پرگزارا ہوجاتا ہے؟، فردوس عاشق کادلچسپ جواب چمن:بادلوں کاراج،بارش کی پیشگوئی تنخواہ دار طبقے کیلئے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانےکا طریقہ کراچی:گاڑی سمندر میں ڈوبنے سے باپ بیٹا جاں بحق پاکستان میں پہلی بارپیمنٹ گیٹ وے بنانے کافیصلہ
|
فلاڈیلفیا: گرفتار خاتون داعش میں شمولیت کی خواہاں رسائی کے لنکس امریکہ فلاڈیلفیا: گرفتار خاتون داعش میں شمولیت کی خواہاں اپریل 04, 2015 محکمہ انصاف کی دائر کردہ فریاد درج الزامات میں کہا گیا ہے کہ تھومس نےایک ٹویٹ میں اپنی ہمدردیاں ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر ہمیں حقائق کا پتا چل جاتا، تو آج ہم سب محاذ پر اپنے بھائیوں کے ہمراہ لڑائی میں شریک ہوتے‘ واشنگٹن — فلاڈیلفیا کی ایک خاتون پر داعش کے شدت پسند گروہ کو مادی مدد فراہم کرنے کی سازش کا الزام عائد کیا گیا۔ شام کی دہشت گردی میں شمولیت کی نوعیت کا یہ اس ہفتے سامنے آنے والا دوسرا کیس ہے، جس میں امریکی خواتین ملوث بتائی جاتی ہیں۔ جمعے کو وفاقی فوجداری شق کے تحت درج کی گئی شکایت میں کہا گیا ہے کہ 30 برس کی کیونا تھومس (جنھیں ’فتیات الخلیفہ‘ اور ’نوجوان چیتی‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے)، داعش کے شدت پسند گروہ میں شمولیت اور اُن کے ہمراہ لڑنے کی غرض سے بیرون ملک سفر کی کوشش کر رہی تھیں۔ درج شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ تھومس نےایک ٹویٹ میں اپنی ہمدردیاں ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر ہمیں حقائق کا پتا چل جاتا، تو آج ہم سب محاذ پر اپنے بھائیوں کے ہمراہ لڑائی میں شریک ہوتے‘۔ امریکی محکمہٴانصاف کے ایک بیان میں اعلان کیا گیا ہے کہ تھومس پر الزام ہے کہ اُنھوں نے امریکی پاسپورٹ کے اجرا کی درخواست دے رکھی تھی، انٹرنیٹ پر بالواسطہ سفری راستوں کو تلاش کیا اور ترکی جانے کے لیے ایک الیکٹرانک ویزا خریدا، اور ساتھ ہی ساتھ، بیرون ملک فضائی سفر کے ٹکٹ خریدے۔ اُن پر الیکٹرانک ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے داعش کے لڑاکوں کے ساتھ رابطہ کرنے کا الزام ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ، جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا وہ شہادت کے لیے کسی کارروائی کا حصہ بننا پسند کریں گی، تو اُنھوں نے بتایا: ’یہ نیک کام ہے، جس کی کوئی لڑکی خواہش ہی کر سکتی ہے‘۔ تھومس نے مبینہ طور پر اپنے ایک ساتھی کو مشورہ دیا تھا کہ جب تک وہ شام کے لیے روانہ نہیں ہوجاتیں، تب تک اُنھوں نے اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ بند کرا دیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہیں گی کہ بے دین لوگوں کی توجہ کا مرکز بنیں۔ الزام ثابت ہونے کی صورت میں، اُنھیں زیادہ سے زیادہ 15 برس کی قید ہوسکتی ہے۔ محکمہٴانصاف کا یہ اعلان ایسے وقت آیا ہے جب نیویارک میں دو خواتین کو گرفتار کیا گیا ہے، جن پر دیسی ساختہ بم بنانے اور امریکہ میں دہشت گرد حملہ کرنے کا الزام ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے جمعرات کو دائر کردہ الزامات میں کہا گیا ہے کہ نوئیل ویلنزاس اور آسیہ صدیقی کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کا ہتھیار استعمال کرنے کی سازش کا الزام ہے۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ انڈر کور تفتیش کار اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ خواتین پولیس، حکومت یا فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی سازش کر رہی تھیں، جس سے مراد اُن کے ’شدت پسند جہادی عزائم ‘ہیں۔ الزامات ثابت ہونے کی صورت میں، دونوں مشتبہ خواتین کو زیادہ سے زیادہ عمر قید ہو سکتی ہے۔ اوریگن میں القاعدہ کا تربیتی کیمپ، اقبال جرم امریکہ: خفیہ ادارے کے دفتر کے نزدیک فائرنگ، ایک شخص ہلاک
|
ویٹی کن سٹی : کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پاپائے روم نے کہا ہے کہ انسانیت کو مسائل کے سمندر اور ناامیدی کے سامنے ہمت نہیں ہارنا چاہیے بلکہ ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایسٹر سنڈے کے مسیحی تہوار کے موقع پر ویٹیکن سٹی کے پیٹرز اسکوائر میں گزشتہ شب رات بارہ بجے ہزارہا مسیحی عقیدت مندوں سے اپنے خطاب میں پوپ فرانسس نے کہا کہ انسانیت کو اپنی توجہ صرف مسائل اور مشکلات پر ہی مرکوز نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ وہ تو کبھی ختم ہی نہیں ہوں گے۔ غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس کے برعکس زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بنی نوع انسان عدم اطمینان اور ناامیدی کے سامنے کبھی ہار نہ مانے۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں کلیسائے روم کے سربراہ نے کہا کہ ایسٹر کا تہوار امید کی وجہ بھی ہے، 82 سالہ پوپ فرانسس نے کہا کہ ہم جو قدم اٹھاتے ہیں، اکثر ان کے بارے میں محسوس ہوتا ہے کہ وہ کبھی بھی کافی ثابت نہیں ہوں گے۔ مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ پھر ذہن میں یہ سوچ بھی آتی ہے کہ زندگی کا ایک سیاہ ضابطہ یہ بھی ہے کہ ہر امید ناامیدی میں بدل جاتی ہے، لیکن اصل میں یہ شکوک و شبہات اور کم اعتمادی ہوتے ہیں، جو انسانی امیدوں کے راستے کی رکاوٹیں ثابت ہوتے ہیں۔ پاپائے روم نے اپنے اس خطاب میں مزید کہا کہ اگر انسان مسلسل یہی سوچتا رہے کہ سب کچھ غلط ہو جاتا ہے اور برائی کبھی ختم نہیں ہوتی، تو ہم بتدریج سنکی پن اور ایک بیمار کر دینے والی پڑمردگی کا شکار ہوتے جاتے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ہم ایک کے بعد ایک پتھر جوڑتے ہوئے اپنے عدم اطمینان کی ایک ایسی یادگار تعمیر کرنے لگتے ہیں، جس میں ہم بالآخر اپنی امیدوں کو دفن کر دیتے ہیں۔ پاپائے روم نے کہا کہ امید ایک ایسی چیز ہے، جسے کبھی دم نہیں توڑنا چاہیے اور انسانوں کو اپنی امیدوں کو دفنانا نہیں چاہیے کیونکہ اصل میں ایسٹر کے مسیحی تہوار کا حقیقی پیغام بھی یہی ہے۔ پاپائے روم نے یہ باتیں اپنے جس خطاب میں اور جس موقع پر کہیں، وہ ایسٹر سنڈے کے آغاز کا وہ وقت تھا، جو مسیحی عقیدے کے مطابق یسوع مسیح کے مصلوب ہو جانے اور پھر دوبارہ زندہ ہونے کی علامت ہے۔ اس موقع پر پہلے پوپ فرانسس نے اندھیرے میں ایک شمع جلائی، جس کے بعد ہزارہا مسیحی زائرین نے بھی شمعیں جلائیں اور یوں علامتی سطح پر یسوع مسیح کے دوبارہ زندہ ہو جانے کی وجہ سے پھیلنے والی روشنی کو یاد کیا گیا۔
|
گورنمنٹ ہائی سکول تمے کی طالبہ ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہو گئی | Dhudial News گورنمنٹ ہائی سکول تمے کی طالبہ ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہو گئی September 3, 2016 ملہال مغلاں( نمائندہ خصوصی۔ڈھڈیال نیوز) گورنمنٹ ہائی سکول تمے کی طالبہ ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہو گئی ہے ، یونین کونسل چوعہ گنج علی شاہ کے معروف موضع تکیہ شاہ مراد سے ملحقہ موہڑہ ملیاراں کے رہائشی صفدر حسین کی بیٹی گورنمنٹ ہائی سکول تمے کی طالبہ منیبہ صفدر گزشتہ روز رکشے میں سوار ہو کر سکول جا رہی تھی کہ رکشہ سے اتر کر سڑک کراس کر رہی تھی کہ اتنے میں تیز رفتار بس نمبری4599جس کو اختر نامی ڈرائیور غفلت اور لاپرواہی سے چلا رہا تھا کچل کر رکھ دیا، منیبہ صفدر موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی مرحومہ نویں کلاس کی طالبہ تھی ، مقامی سیاسی وسماجی حلقوں نے المناک حادثے میں جاں بحق طالبہ کے لواحقین سے اظہار تعزیت ااور غفلت لا پرواہی سے حادثے کے مرتکب ڈرائیور کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔
|
پکیج دوربین مداربسته | پکیج توربو هایک ویژن 8 تا دوربین 2 مگاپیکسل 1 دستگاه 6 تا دوربین 2 مگاپیکسل1 دستگاه 3,815,000تومان پکیج-4-کانال-دوربین-مداربسته 4 تا دوربین 2 مگاپیکسل 1 دستگاه 2 تا دوربین 2 مگاپیکسل 1 دستگاه
|
نسوانیت کا دشمن ۔۔۔پی سی او ایس - Shifa News International نسوانیت کا دشمن ۔۔۔پی سی او ایس 557 0 like خواتین کی بیضہ دانیوں میں ہر ماہ انڈے پیدا ہوتے ہیں جو چھوٹی چھوٹی تھیلیوں میں ہوتے ہیں۔بعض اوقات بیضہ دانیوں میں بہت سی تھیلیاں تو بن جاتی ہیں لیکن وہ انڈوں سے خالی ہوتی ہیں ۔اس مرض کو ”پی سی او ایس “ کہا جاتا ہے جو بے اولادی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے خواتین کے چہروں پر بال آجاتے ہیں‘ انہیں کیل مہاسوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ موٹی بھی ہوجاتی ہیں۔ شفاانٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد میں شعبہ امراض غدود کے سربراہ ڈاکٹرمحمد طیب بادشاہ سے گفتگو کی روشنی میں ایک معلوماتی تحریر جب کسی مرض کے ساتھ ’ سینڈروم“ کا لفظ آتاہے تواس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ کوئی ایک مرض نہیں بلکہ مجموعہ امراض ہے اور اس میں بیک وقت کئی علامات نمودار ہوتی ہیں۔ پی سی اوایس (Polycystic Ovarian Syndrome) خواتین سے متعلق ایک سینڈروم ہے جس کا تعلق ہارمونز کے ساتھ ہے۔ ”پی سی او ایس“ کیا ہے ہارمونز کی بہت سی اقسام ہیں جن میں سے کچھ کا تعلق جنس کے ساتھ ہوتا ہے۔پروجیسٹیرون (progesterone) زنانہ جبکہ اینڈروجن(androgen)مردانہ ہارمون ہے۔انہی ہارمونز کی وجہ سے لوگوں میں مردانہ اور زنانہ خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مردانہ ہارمونز کی کچھ تعداد خواتین اور زنانہ ہارمونز کی کچھ تعداد مردوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ اگرخواتین میں مردانہ ہارمونز کی تعداد ایک خاص حد سے تجاوز کر جائے توان میں ”پی سی او ایس“ کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر ایسا ہوجائے تو کئی طرح کے مسائل سامنے آنے لگتے ہیں۔ مثال کے طور پر خواتین کے چہرے‘ چھاتی اورپشت پر بال آجاتے ہیں۔ اگر مرض شدید ہو جائے تو پیشانی کی جگہ سے ان کے بال جھڑ بھی سکتے ہیں۔ علاوہ ازیںانہیں کیل مہاسے (acne)بھی نکل آتے ہیں۔ بالغ خواتین کی بیضہ دانیوں (ovaries)میں ہر ماہ انڈے پیدا ہوتے ہیں جو چھوٹی چھوٹی تھیلیوں میں پائے جاتے ہیں۔اس بیماری کی صورت میں ان کی بیضہ دانیوں میںبہت سی تھیلیاں (polycysts) تو بن جاتی ہیں لیکن وہ انڈوں سے خالی ہوتی ہیں۔ اس مرض کی وجہ تسمیہ یہی ہے جس کا ترجمہ بیضہ دانی میں بہت سے خالی تھیلیوں کا مرض کہا جا سکتا ہے۔ مذکورہ بالا علامات کے علاوہ کچھ اور پیچیدگیوں کا تعلق بھی اس سینڈروم کے ساتھ ہے ۔مثال کے طور پر ان میں وزن بڑھنے (over weight)یا فربہ (obese)ہونے کی شکایت بڑھ جاتی ہے ۔ ان کے خون میں شوگر کی مقدارمیں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس سے صورت حال قبل از ذیابیطس کی سطح پر پہنچ جاتی ہے اور بعض اوقات انہیں مکمل ذیابیطس بھی ہوجاتی ہے۔اسی طرح ان میں دل کے امراض کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ہے ۔ .مرض کی تشخیص بالعموم یہ مرض اسی عمر میں سامنے آجاتا ہے جب بچیوں میں ماہانہ ایام کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے‘ تاہم بعض اوقات یہ 17یا 18سال کی عمر میں یا اس کے بعد بھی پید اہو سکتا ہے۔ جب ماہانہ ایام کا نظام شروع ہوتا ہے تو اس میں بے قاعدگی ہو سکتی ہے لیکن اگر یہ سلسلہ طویل ہو جائے یا اس کے ساتھ اس کی دیگر علامات(مثلاً موٹاپا‘ جسم پر بال یاکیل مہاسے) بھی سامنے آئیں تو اسے ”پی سی او ایس “ کے تناظر میں بھی دیکھ لینا چاہئے اور ڈاکٹر کے پاس جانا چاہئے۔ اس کی سب سے بڑی علامت ایام میں بے قاعدگی ہی ہے تاہم حتمی تشخیص کے لئے کچھ ٹیسٹ بھی کئے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر خون میں مردانہ ہارمون ٹیسٹوسٹیرون (testosterone) کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ جن بچیوں کا وزن زیادہ ہو‘ ان میں بلڈگلوکوز اور انسولین کی سطح جاننے کے لئے بھی ٹیسٹ کیا جاتا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ انہیں خدانخواستہ شوگر، قبل از ذیابیطس یا انسولین کی مزاحمت کا مسئلہ تو نہیں ہے۔ نقصانات کیا ہیں اس کی وجہ سے پیداشدہ مسائل میں پہلا مسئلہ تو زیبائشی (cosmetic) ہے جس کے متعلق خواتین بہت حساس ہوتی ہیں۔ اگر ان کے چہروں پر بال یا کیل مہاسے ہوں یا ان کا وزن بڑھ جائے تو اسے اچھا نہیں سمجھا جاتا۔موٹاپے سے نہ صرف جسم کی خوبصورتی متاثر ہوتی ہے بلکہ کچھ اور مسائل بھی جنم لے سکتے ہےں۔ اگر ان کے انڈوں کے اخرا ج میں رکاوٹ ہو توانہیں بے اولادی کاسامنا بھی کرناپڑسکتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ پی سی او ایس کی صورت میں تمام علامات بیک وقت سامنے آئیں لیکن ایسا ہوبھی سکتا ہے۔ دماغ میں پچوٹری گلینڈ نامی غدودایک ہارمون ایل ایچ (Luteinizing Hormone)خارج کرتا ہے۔ پی سی او ایس کاتعلق اس ہارمون کے بڑھ جانے سے ہے جس کی وجہ سے مردانہ ہارمون ٹیسٹوسٹیرون کی تعداد میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ اگرکسی لڑکی کی ماں یا بہن میں پی سی او ایس کا مسئلہ ہو تو اس میں بھی اس کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اس کا تعلق موروثیت کے ساتھ بھی ہے۔ اس کا تعلق ہمارے لائف سٹائل کے ساتھ بھی ہے‘ اس لئے کہ پی سی او ایس کی شکار نصف سے زیادہ خواتین موٹی ہوتی ہیں۔آج کل اکثر گھروں میں بچوں اور بچیوں کو کھانے میں گوشت‘جنک فوڈ، اورتلی ہوئی چیزیں ہی پسند آتی ہیں جو وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔انہیں چاہئے کہ سبزیوں اور دالوں کی طرف بھی آئیں اور متوازن غذا استعمال کریں۔ مرض کا علاج یہ ایسا سینڈروم ہے کہ اگر ایک دفعہ کسی کو ہوجائے تو زیادہ تر صورتوں میں اس کا ایسامکمل علاج ممکن نہیں جس کے بعد اس مرض کا خاتمہ ہو جائے‘ تاہم احتیاطی تدابیر اور علاج کی مددسے اسے کنٹرول میں رکھا جا سکتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ جو خواتین اپناوزن کم کر لیتی ہیں‘ ان میں اس مرض کی علامات کم ہو جاتی ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انہیں دواﺅں کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ جہاں تک ادویات کا تعلق ہے تو ان کے مقاصد مختلف لوگوں کے لئے مختلف ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر شادی سے پہلے زیادہ تر لڑکیوں کی خواہش کیل مہاسوں یاناپسندیدہ بالوں کاخاتمہ ہوتا ہے جس کے لئے انہیں کچھ دوائیں دی جاتی ہیں۔ایام کو باقاعدہ کرنے کے لئے جو دوائیں دی جاتی ہیں‘ ان سے بالوں کامسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے لیکن یہ لمبا علاج ہے اوراس کے لئے سالوں ادویات لینا پڑتی ہیں۔ جن شادی شدہ خواتین کوبچے کی طلب ہو ‘ انہیں ایسی ادویات دی جاتی ہیں جو انڈوں کے اخراج میں مدد دیتی ہیں۔اس کے علاوہ اگرکوئی اور پیچیدگیاںہوں تو ان کا علاج کیا جاتا ہے۔ اس مرض کی ویکسی نیشن نہیں ، اس لئے کہ یہ متعد ی مرض نہیں ہے۔ گفتگو کو سمیٹتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ جن والدین کی بچیاں بلوغت میں داخل ہو چکی ہوں اور ان کے ایام میں بے قاعدگی اور چہرے پر بال ہوں ‘انہیں ایکنی کا مسئلہ ہو یا وہ ضرورت سے زیادہ موٹی ہوں‘ انہیں چاہئے کہ علاج میں پی سی او ایس کے امکان کو بھی مدنظر رکھیں اور کسی اینڈو کرائنالوجسٹ کو دکھائیں تاکہ اس کا بروقت علاج ہوسکے۔خواتین کو چاہئے کہ صحت مند طرززندگی اپنائیں‘ متوازن غذا کھائیں اوراپنے وزن کو کنٹرول میں رکھیں۔ (م ۔ز۔ الف) تالو‘ ہونٹ‘ جبڑا اور دانت۔۔۔منہ کی دنیا تیز دھوپ اورگردوغبار …آنکھوںکی حفاظت‘ مگرکیسے؟ حجاب بالوں کے لئے ڈھال یا وبال ٭میرے بال کندھوں تک ہیں اور میں حجاب پہنتی ہوں۔ میرے او� BY ڈاکٹر عبدالقیوم خوبصورتی کاتناظر ہو یا صحت کا‘ جسم کے دیگراعضاءکی طرح � BY آمنہ بتول صحت مند بال،سر کا تاج زمانہ قدیم ہو جدید‘ یہ بات اپنی جگہ ہمیشہ مسلم رہی �
|
منو بھائی:کڑاکے دی دھپ وچ ٹھنڈا ٹھار ۔کھال مست تے حال مست۔نصرت جاوید مُڈھلا ورقہ >> شاہ مُکھی وچار >> کالم تے کالمسٹ >> منو بھائی:کڑاکے دی دھپ وچ ٹھنڈا ٹھار ۔کھال مست تے حال مست۔نصرت جاوید پہلے افضل خان گئے تے ہن منو بھائی وی ۔دونوں اکثر نال بیٹھے بہوں ڈھٹائیاں نال ایہہ طے کردے پائے جاندے کہ انہاں دوناں چوں پہلے کون مرسی تے ماتمی کالم لکھدے ویلے کون کس نوں ’’بے نقاب‘‘ کرسی۔ دونوں نوں ہی ویلہ نہ ملیا۔ میرے ورگے بہوں سارے نِکے البتہ یکدم بے آسرا ہوگئے نیں۔ کڑاکے دی دھپ دے سفراں وچ ٹھنڈی ٹھار چھاں توں وانجھے گئے۔ میری بیوی نوں منو بھائی دے پورے ہون دی خبر میتھوں پہلاں ملی۔ گھبرا کے میرے کمرے وچ آئی تے پریشان ہوکے آکھیا ’’نصرت تہاڈے سارے...(ایس دے بعد شاید سہارے کہنا چاہ رہی سی) لڑھکنا شروع ہوگئے نیں۔ تسی ڈر گئے ہووں گے۔ ’’میں جواباً کجھ آکھ سکیا۔ یاداں دے بھنڈار چوں ہک لشکاراے دی جھات اٹک گئی۔ صحافیاں دے اک وفد دے نال اسی بنگلہ دیش اپڑے ساں۔ ڈھاکہ وچ کوئی شاپنگ مال کھلا سی۔ اوتھے بنگال دی سوغاتاں ویچیاں جاندیاں سن۔ نو دولتیاں دا اوتھے جانا ضروری سمجھیا جاندا سی۔ مینوں شاپنگ مالز توں بہوں چالو ہاں۔ دوستاں نوں مگرچکر نہ دے سکیا۔ اوتھے اپڑدے نال ہی سارے یار بیلی دُکاناں وچ وڑ گئے۔ میں درمیانی ہال دی اک کندھ نال ٹیک لائے بیزاریاں نال سگریٹ پی رہیا سی۔ اچانک منو بھائی تے نظر ٹک گئی۔ مردانہ کپڑیاں دی اک دُوکان سی۔ ایس وچ داخل ہوندے ہی انہاں دی نظر گوڑھے نیلے رنگ دے اک کُرتے ول سی جس نوں جوان نظر مُنڈے دے مجسمے نے پا رکھیا سی۔ منو بھائی بت بنے ایس نوں ویکھ رہے سن۔ اک دووار انگلیاں نال کپڑے نوں ٹٹولیا وی۔ دُکان توں باہر آکے کسی فلم دے ڈائریکٹر وانگ کمر تے ہتھ رکھے مختلف زاویاں توں ایس مجسمے دا جائزہ لیندے رہے۔ فیر اچانک مینوں ویکھیا تے پُچھیا میری قمیض دا سائز کیہہ ہے۔ میں بے دلی نال دسیا تے آکھیا کہ ذرا میرے نال چل کے ایہہ کُرتا ٹرائی کرو۔ رب جاندا ہے پئی میں ایہہ سمجھیا کہ اپنے کسی رشتے دار لئی خریدنا چاہ رہے نیں۔ سائز دے بارے انہاں نوں پک نہیں۔ انہاں دی کسی گل نوں ٹالن دی ہمت نہیں سی۔ ٹرائی روم وچ گیا، کُرتا پایا، انہاں نوں وکھیا تے اوہ کھِل اُٹھے۔ کُرتا خرید لیا۔ اوہ پیک ہویا تے ایس نوں میرے حوالے کردے ہوئے بولے تیرے لئی خریدیا ہے۔ میں شکریہ وی ادا نہ کر پایا۔ ہوٹل واپس آئے تے حکم ہویا کہ ڈنر دی دعوت تے اوہ کُرتا پانا ہوسی۔ حکم تے مننا ہی سی۔ دعوت وچ گئے تے میرے نال میز تے بیٹھے رہے۔ ساڈے نال گئے دوستاں نوں مسلسل دسدے رہے کہ اوتھے موجود لوک ’’ساڈے مُنڈے‘‘ نوں سراہ رہے نیں۔ ڈھلدے مان دی خشیاں تے بھرنواں قرار کہ انہاں دا میرے لئی اوہ کُرتا خریدنا اک بہوں ہی سوہنا فیصلہ سی۔ تعلق میرا انہاں دے نال 1970 دی دہائی وچ بن چکیا سی۔ اوہ لہور ٹیلی ویژن لئی اک کھڑکی توڑ رش لین والی ڈارمہ سیریز لکھ رہے سن۔ ریڈیو پاکستان دی دیوار دے سائے تھلے،لوڈھے ویلے بعدوں، لوہے دی کرسیاں پاکے اک بندہ چاء ویچدا سی۔ اُستاد امانت علی خان اکثر اوتھے آجاندے۔ سوہنا تے جٹ بوٹ امانت علی خان نرے اپنے شعبے دے دے استاد گلوکار ہی نہیں سن کہ دل موہ لین والی گل بات کرن وچ انہاں دا کوئی جور نہیں سی۔ اوہ بولدے سن تے ہر کوئی سندا سی۔ اپنی نشست سنبھالدے ہی پر اوہ’’ منو کتھے وے‘‘ تے اٹک جاندے۔ منو بھائی بغیر اوہ ذرا گواچے گواچے ، ماچس نوں انگلیاں وچ دبا کے تال دے سہارے توں کوئی سر لگا کے دسنا شروع ہوجاندے کہ راگ مالکونس کنج چندر کونس ہوجاندا ہے۔لیکچر پر ختم نہ ہوندا۔ ’’منو کتھے وے‘‘ دی رٹ اپنی تھاں رہندی۔ اخیر منو آ جاندا تاں امانت علی خان نوں قلبی چین پئے جاندا۔ استاد عاشق علی خان دا ذکر، فریدہ خانم تے زاہدہ پروین دی کہانیاں تے انہاں دی سنگت دے حوالے توں مشہور ہوئے کجھ طبلچیاں تے سارنگی نوازاں دے قصے جیہڑے ان عورتاں دے یک طرفہ عشق پاروں ہور اولڑے جاپدے سن۔ مینوں تے اج تیک ایہہ گلپلے نہیں پئی کہ امانت علی خان نوں اپنی گل بات پاروں منو بھائی دی کیوں اڈیک رہندی سی۔ فیر میں اسلام آباد آگیا تے میری شادی ہوگئی۔ ایس دے کجھ مہینیاں بعد لہور گیا تے ملاقات ہوئی۔ بڑے دھڑلے توں مینوں خبر دتی کہ اوہ میرے ’’سسرائیلی‘‘ ہوندے نیں۔ انہاں دی موجودگی وچ مینوں اپنی اوقات وچ رہنا ہوئے گا۔ اپنے سکول دے کجھ دیہاڑے انہاں میرے سوہرے ناللنگھائے سن۔ میری سس گورنمنٹ کالج لہور وچ انہاں دے یار بیلی جاوید شاہین دی کاس فیلوسی۔ بس میں ہن انہاں دا داماد ہوچکیا سی۔ اوہ سسرال والی شفقت دین گے پر ’’اسرائیل‘‘ وانگ میری ’’خباثتاں‘‘ تے کڑی نظر وہ رکھن گے۔ میری بیوی تے بچیاں نال اوہ نرا تِن چار وار ہی ملے ہون گے۔ جداں وی انہاں دے نال کسی سفر تے روانہ ہوندا تے ہر اک دا ناں لے کے وارو واری پورا احوال دریافت کردے۔ سفر توں مڑ گھراں ول آندے اکو سوال کردے کہ انہاں تِناں لئی کیہ لتا ہے۔ میں اکثر گول کردا نظر آندا تے فکر مند ہوکے سمجھاندے کہ پیو نوں خالی ہتھ گھر واپس نہیں آنا چاہیدا۔ دھیاں وڈی نعمتاں نیں تے بھرپور پیار دی حق دار ہوندیاں جے۔ ہورے انہاں دے نصیبے وچ کون (ایتھے اک موٹی جہی گالہہ کڈھدے) لکھیا ہے۔ بغیر مطلبی شفقتاں تے صرف پیو ہی دے سکدا ہے۔ دنیا دے ہر شہر دی اک خاص سوغاتاں ہوندیاں نیں۔ اوتھے جان دا موقعہ ملے تے گھر واپس آندے ہوئے اوہ سوغاتاں ضرور نال لے کے جانیاں چاہیدیاں نیں۔ بچیاں خش ہوجاندیاں نیں۔ ایہہ کہندے ہوئے انہاں دی آواز بھر جاندی تے میں حیران کہ اک ’’ترقی پسند انقلابی‘‘ دی شہرتاں رکھن والا منو بھائی ، اندروں کڈاقدامت اتے ر وایت پرست ہے۔ منو بھائی نوں اپنے پیشے پاروں بہوں مشہوریاں تے کامرانیاں ملیاں، پرعاجزیاں انہاں دی جبلت بن چکی سی۔ ذکر ہمیش اپنی محرومیاں دا کردے۔ اپنی کوتاہیاں دا مذاق ا ڑاندے۔ انہاں نوں پہلا عشق ہویا تے محبوبہ دا ہتھ تھامیا۔ ایس نے پنجابی وچ وعدہ لتا کہ ہن اوہ ایہہ ہتھ کدی نہ چھڈن گے۔ سینکڑاں وار انہاں نے ایہہ واقعہ سنایا ہے۔ ہر وار پر انہاں دے لہجے تے دسن دے ون سونے طریقیاں پاروں ایس نوں اک نواں رنگ مل جاندا۔ تاسف، ملال، بچپنا تے معصومیتاں، اولڑے رنگاں دا بھنڈار۔ انہاں دے والد ریلوے دے اک نکے جہے ٹیشن دے ہیڈ سن۔ سالانہ معانئے لئی اک انگریز افسر آیا تے منو بھائی سمیت سارے گھر والیاں نے انہاں دی والد دی وردی ایس تے لگے بٹن تے جُتی چمکائی سی۔ لش لش کردے ٹیشن توں انگریز افسر واپس جارہیا سی تے اوس آرام کرن والیکمرے وچ موجود اک تیل نال جلدے لیمپ نوں ویکھ لتا۔ ایس لیمپ وچ اپنی انگلی پائی تے چمنی تے لگی سیاہی نوں اپنی انگلی تے لا کے انہاں دے والد دی سفید وردی تے سزا دے نشان پاروں لائی تے ٹر گیا۔ مینوں پک ہے کہ منو بھائی دی زبان وچ آئی ہکلاہٹاں یا لکنتاں دی اصل وجہ اوہی واقعہ سی۔ ایس واقعے نے زندگی دی ابتدا ہی وچ انہاں نوں طاقت وراں دی کھڑپینچیاں دا بوتھا وکھا دتا۔ خاہش انہاں دی ساری عمر ایہہ رہی کہ ذلتاں مارے لوک اپنی خشیاں دے سفنے ویکھدے رہن۔ اشرافیہ تے ریاستی قوتاں والے ہورے بہوں تگڑے ہوندے نیں۔ انہاں توں نجات شاید ممکن نہیں۔ اپنی فتح دا پورا پک نہ ہون دے باوجود ، ماڑے تے ہماتڑاں نوں مزاحمتاں تے کھلوتا ویکھناچاہندے سن۔ منو بھائی دی عاجزیاں پکیاں سن، بناوٹاں توں پاک۔ مخولی انداز۔ اصل وچ انہاں دا مزاحمتی ہتھیار سی۔ اپنی بے کسیاں تے محرومیاں دا مستقل مذاق اڑاندے ہوئے انہاں نے زندگی نوں ڈٹ کے لنگھاون دا ہنر سکھ لتا سی۔ ایس ہنر نے انہاں نوں ٹھنڈا ٹھار بنا دتا سی تے میرے ورگیاں نوں حوصلہ۔ انہاں دی شخصیت تے رویے نے سمجھایا کہ دُکھی لوک اکلے نہیں سگوں ڈھیر وادھو نیں۔ انہاں نوں اک مک ہوکے اپنے ٹیچے تے ماتم کرن دی تھاں زندگی دی نِکی نِکی خشیاں نال جڑن دا ڈھنگ سکھنا چاہیدا ہے۔ کھال مست تے حال مست والا صوفی پندھ۔ منو بھائی ایس دا لشکارا تے انکھی رنگ سی۔
|
کراچی، بہتر انچ قطر کی پائپ لائن پھٹنے سے شہر قائد کو پانی کی فراہمی ایک بارپھربند اُردو پوائنٹ پاکستان کراچی، بہتر انچ قطر کی پائپ لائن پھٹنے سے شہر قائد کو پانی کی فراہمی ایک بارپھربند جمعرات 12 ستمبر 2019 18:10 کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 ستمبر2019ء) دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کراچی کو پانی فراہم کرنے والی بہتر انچ قطر کی پائپ لائن پھٹنے سے پانی کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کا بریک ڈاون سے بہتر انچ قطر کی پائپ لائن پھٹ گئی، جس کے باعث شہر کو ایک کروڑ اسی لاکھ گیلن پانی کی فراہمی معطل ہوگئی ہے جبکہ واٹر بورڈ حکام کی جانب سے مرمتی کام ابھی تک شروع نہیں کیا گیا ہے۔ دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی عدم فراہمی کے باعث واٹربورڈ کے سب سے اہم پمپنگ اسٹیشن کے تمام پمپس بند ہوگئے ہیں۔دوسری جانب کے الیکٹرک نے واضح کیا ہے کہ واٹر بورڈ کے دھابیجی سمیت تمام پمپنگ اسٹیشنز ہر بجلی کی فراہمی جاری ہے، دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر چند منٹوں کے تعطل کو بلا تاخیر درست کردیا گیا ہے۔ واٹر بورڈ کے تمام بڑے پمپنگ اسٹیشن پر بلا تعطل بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ کراچیبجلیکے الیکٹرکپانیقطر لیاری ملکی سیاسی ، مذ ہبی ، سماجی ،کھیل اور فنکاروں کا گڑھ ر ہا ہے، یہاں کے لوگ ملکی تر قی میں آج بھی اہم کر دار ادا کر ر ہے ہیں،اختر بلوچ ایم کیوایم کے سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان کی کراچی پریس کلب پرآل سندھ پیرنٹس ایسوسی ایشن کے احتجاجی مظاہرے میں شرکت جونا گڑھ اسٹیٹ مسلم فیڈریشن کی جانب سے بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف ٹرین مارچ کا اعلان ماڈل کورٹ نے دو افراد کے قتل کے مقدمے میں سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کے مرکزی ملزم رحمان بھولا سمیت 3 ملزمان کو بری کردیا وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایت پت ضلع کورنگی میں "صاف کراچی مہم "کا آغاز اگست کے بعد مقبوضہ کشمیر میں لوگوں پر حیات تنگ کر دی گئی ہے بغیر کسی وقفے کے 46ویں روز بھی کرفیو بدستور جاری رہے،اسپیکرآزادقانون سازاسمبلی پاک افغان سرحد پر شہید ہونے والے میجر عدیل شاہدزیدی کو کراچی میں سپرد خاک کردیاگیا مختلف فلاحی اور خیراتی اداروں کے تقریباً 2 ہزار سے زائد غریب، محروم بچوں اور اسٹریٹ چلڈرن نے الہ دین پارک میں مفت جھولوں اور تفریح کا مزہ لیا ہمیں ملک کی بقاء وسلامتی اور استحکام کیلئے ایک ہوکر کام کرنا ہوگا ، سربراہ پاکستان سنی تحریک نارتھ کراچی کے صنعتکاروں نے فیکٹریوں کے بجلی کے تار چوری کرنے والا گروہ پکڑلیا عمران خان نے کراچی آکر 162 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیامگراب بھی منتظر ہے ، سیاسی اختلافات اپنی جگہ، کشمیر کے مسئلے پر ہم سب ایک ہیں، سابق وزیر اعظم سیدیوسف رضاگیلانی بیک لاک کچرے کو ایک ماہ میں ختم کریں گے، وزیراعلیٰ سندھ وزیر اعلیٰ سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات کی شہید میجر عدیل کی نماز جنازہ میں شرکت نیب کی نیپرا کے پاور ٹیرف پر نیب کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے حوالے سے چھپنے والی خبر کی وضاحت پشاور آرمی پبلک سکول کے معصوم بچوں کی قربانیاں کو دنیا کی تاریخ میں ایک سنہری باب کے طور لکھا جائے گا،اسد قیصر
|
اسلام کا نواں مہینہ رمضان | معاملات حیات و ممات at Monday, July 23, 2012 Posted by محمد طارق راحیل 0 comments شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُراٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰی وَالْفُرْقَان ج فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ ط وَمَنْ کَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلـٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَط یُرِیْدُاللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَوَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ ز وَ لِتُکْمِلُواالْعِدَّۃَ وَلِتُکَبِّرُوااللّٰہَ عَلـٰی مَا ھَدٰکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ (پارہ٢، سورۃ البقرہ ، آیت ١٨٥) رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا لوگوں کے لئے ہدایت اور راہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں ، تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوںمیں اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا اور اسلئے کہ تم گنتی پوری کرو اور اللہ کی بڑائی بولو اس پر اس نے تمہیں ہدایت کی اور کہیں تم حق گزار ہو ۔ (کنزالایمان) یٰاَۤیُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاکُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (پارہ٢، سورۃ البقرۃ ، آیت ١٨٣) اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے۔ (کنزالایمان) وجہ تسمیہ: رمضان المبارک اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے، اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ رمضان ''رمض'' سے ماخوذ ہے اور رمض کا معنٰی ''جَلانا ''ہے۔ چونکہ یہ مہینہ مسلمانوں کے گناہوں کو جلا دیتا ہے اس لئے اس کا نام رمضان رکھا گیا ہے۔ یا اس لئے یہ نام رکھا گیا ہے کہ یہ ''رمض'' سے مشتق ہے جس کا معنٰی ''گرم زمین سے پاؤں جلنا'' ہے۔ چونکہ ماہِ صیّام بھی نفس کے جلنے اور تکلیف کا موجب ہوتا ہے لہٰذا اس کا نام رمضان رکھا گیا ہے۔ یا رمضان گرم پتھر کو کہتے ہیں۔ جس سے چلنے والوں کے پاؤں جلتے ہیں۔ جب اس مہینہ کا نام رکھا گیا تھا اس وقت بھی موسم سخت گرم تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ رمض کے معنی برساتی بارش ، چونکہ رمضان بدن سے گناہ بالکل دھو ڈالتا ہے اور دلوں کو اس طرح پاک کردیتا ہے جیسے بارش سے چیزیں دھل کر پاک و صاف ہو جاتی ہیں ۔ (غنیۃ الطالبین ، صفحہ ٣٨٣۔٣٨٤) حدیث ١: اِنَّ الْجَنَّۃَ تَزَ حْرَفُ لِرَمْضَانَ مِنْ رَاسِ الََْحَوْلِ حَوْلٍ قَابِلٍ قَالَ فِاذَا کَانَ اَوَّلُ یَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ ہَبَّتْ رِیْحٌ تَحْتَ الْعَرْشِ مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّۃِ عَلَی الْحُوْرِ الْعَیْنِ فَیَقُلْنَ یَا رَبِّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ عِبَادِکَ اَزْوَجًا تَقِرُّبِہِمْ اَعْیُنُنَا وَ تَقِرُّ اَعْیُنُہُمْ بِنَا ( رواہ البیہقی فی شعب الایمان۔مشکــٰوۃ ص ١٧٤) بے شک جنت ابتدائے سال سے آئندہ سال تک رمضان شریف کے لئے آراستہ کی جاتی ہے۔ فرمایا جب پہلا دن آتا ہے تو جنت کے پتوں سے عرش کے نیچے ہوا سفید اور بڑی آنکھوں والی حوروں پر چلتی ہے تو وہ کہتی ہیں کہ اے پروردگار اپنے بندوں سے ہمارے لئے ان کو شوہر بنا جن سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ان کی آنکھیں ہم سے ٹھنڈی ہوں۔ حدیث ٢: نَادٰی مُنَادٍ مِّنَ السَّمَآءِ کُلَّ لَیْلَۃٍ اِلَی انْفِجَارِ الصُّبْحِ یَا بَا غِیَ الْخَیْرِ تَمِّمْ وَ اَبْشِرْ وَیَا باَغِیَ الشَّرِ اَقْصِرْ وَ اَبْصِرْ ہَلْ مَنْ مُّسْتَغْفِرٍ یَّغْفِرُ لَہ، ہَلْ مَنْ تَائِبٍ یُّتَابُ عَلَیْہِ ہَلْ مَنْ دَاعٍ یُّسْتَجَابُ لَہ، ہَلْ مَنْ سَا ئِلٍ یُّعْطٰی سُؤَا لَہ، فِطْرٍمِّنْ کُلِّ شَہْرِ رَمَضَانَ کُلَّ لَیْلَۃٍ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ سِتُّوْنَ اَلْفًا فَاِذَاکَانَ یَوْمُ الْفِطْرِ اَعْتَقَ فِیْ جَمِیْعِ الشَّہْرِ ثَلَا ثِیْنَ مَرَّۃً سِتِّیْنَ اَلْفًا۔ (زواجر جلد اول) رمضان المبارک کی ہر رات میں ایک منادی آسمان سے طلوعِ صبح تک یہ ندا کرتا رہتا ہے کہ اے خیر کے طلب گار تمام کر اور بشارت حاصل کراوراے بُرائی کے چاہنے والے رک جا اور عبرت حاصل کر۔ کیا کوئی بخشش مانگنے والا ہے کہ اس کی بخشش کی جائے ۔ کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے کہ اس کی توبہ قبول کی جائے۔ کیا کوئی دعا مانگنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول کی جائے ۔ کیا کوئی سوالی ہے کہ اس کا سوال پورا کیا جائے۔ اللہ بزرگ و برتر رمضان شریف کی ہر رات میں افطاری کے وقت ساٹھ ہزار گناہ گار دوزخ سے آزاد فرماتاہے جب عید کا دن آتا ہے تو اتنے لوگوں کو آزاد فرماتا ہے کہ جتنے تمام مہینہ میں آزاد فرماتا ہے۔ تیس مرتبہ ساٹھ ساٹھ ہزار۔(یعنی اٹھارہ لاکھ) حدیث ٣: یَغْفَرُ لِاُمَّتِہ فِیْ اٰخِرِ لَیْلَۃٍ فِیْ رَمَضَانَ قِیْلَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَہِیَ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ قَالَ لَا وَلٰکِنَّ الْعَامِلَ اِنَّمَا یُوَفّٰی اَجْرُہ، اِذَا قَضــٰی عَمَلُہ، ۔ رواہ احمد (مشکوٰۃ ص١٧٤) رمضانِ پاک کی آخری رات میں میری امت کی بخشش کی جاتی ہے۔ عرض کی گئی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا وہ شبِ قدر ہے۔ فرمایا نہیں لیکن کام کرنے والے کا اجر پورا دیا جاتا ہے۔ جب کہ وہ اپنا کام ختم کرتا ہے۔ حدیث ٤: اُحْضِرُوْ الْمِنْبَرَ فَحَضَرْنَا فَلَمَّاارْ تَقـٰی دَرْجَۃً قَالَ اٰمِیْنَ فَلَمَّا ارْتَقـٰی الدَّرْجَۃَ الثّانِیَۃَ قَالَ اٰمِیْنَ فَلَمَّا ارْتَقـٰی الدَّرْجَۃَ الثَالِثَۃَ قَالَ اٰمِیْنَ فَلَمَّا نَزَلَ قُلْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ لَقَدْ سَمِعْنَا مِنْکَ الْیَوْمَ شَیْــئًا مَا کُنَّا نَسْمَعُہ، قَال اِنَّ جِبْرَئِیْلَ عَرَضَ لِیْ فَقَالَ بَعُد مَنْ اَدْرَکَ رَمَضَانَ فَلَمْ یُغْفَرُ لَہ، قُلْتُ اٰمِیْنَ فَلَمَّا رَقِیْتُ الثَّانِیَہَ قَالَ بَعُدَ مَنْ ذُکِرْتَ عِنْدَہ، فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْکَ قُلْتُ اٰمِیْنَ۔ فَلَمَّا رَقِیْتُ الثَّالِثَۃَ قَالَ بَعُدَ مَنْ اَدْرَکَ اَبَوَیْہِ عِنْدَہُ الْکِبَرُ اَوْ اَحَدَہُمَا فَلَمْ یُدْ خِلَا ہُ الْجَنَّۃَ قُلْتُ اٰمِیْنَ (زواجر جلد اول) تم لوگ منبر کے پاس حاضر ہو۔ پس ہم منبرکے پاس حاضر ہوئے ۔ جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم منبر کے پہلے درجہ پر چڑھے تو فرمایا ''آمین''۔ جب دوسرے درجہ پر چڑھے تو فرمایا''آمین''۔ اور جب تیسرے درجہ پر چڑھے تو فرمایا ''آمین''۔ جب منبر شریف سے اترے تو ہم نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج ہم نے آپ سے ایسی بات سنی کہ کبھی نہ سنتے تھے۔ فرمایا بے شک جبرئیل ں نے آکر عرض کی کہ ــ''بے شک وہ شخص دور ہو (رحمت سے یا ہلاک ہو) جس نے رمضان شریف کو پایا اور اس کی مغفرت نہیں ہوئی'' میں نے کہا ــ''آمین ''۔ جب دوسرے درجہ پر چڑھا تو اس نے کہا: ''وہ شخص دور ہو جس کے پاس آپ کا ذکر ہو اور وہ درود شریف نہ پڑھے ''میں نے کہا ''آمین''جب میں تیسرے درجہ پر چڑھا تو اس نے کہا کہ'' دور ہو وہ شخص جو اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کا موقع پائے پھر بھی کوتاہی کے نتیجے میں جنت میں داخل نہ ہوسکے ''میں نے کہا ''آمین'' حدیث ٥: عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عنہ، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کُلُّ عَمَلِ ابْنِ اٰدَمَ یُضَاعَفُ الْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ اَمْثَا لِہَا اِلـٰی سَبْعِ مِائَۃٍ قَالَ اللّٰہُ تَعَالـٰی اِلَّا الصَّوْمِ فَاِنَّہ، لِیْ وَاَنَا اَجْزِیْ بِہٖ یَدْعُ شَہْوَتُہ، وَطَعَا مُہ، مِنْ اَجْلِیْ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَۃٌ عِنْدَ فِطْرِہٖ وَفَرْحَۃٌ عِنْدَ لِقَآءِ رَبِّہٖ وَلَخَلُوْفُ فَمِ الصَّائِمِ اَطْیَبُ عِنْدَ اللّٰہِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ وَالصِّیَامُ جُنَّــۃٌ ۔ الحدیث رواہ البخاری و مسلم (مشکوٰۃ ١٧٣) سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ راوی ہیں کہ رسول خُدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ''آدم کے بیٹے کا ہر عمل بڑھایا جاتا ہے ایک نیکی سے دس گنا سے سات سو تک ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ''مگر روزہ کہ اس کا ثواب بے شمار ہے ، بے شک وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔'' روزہ دار اپنی خواہش اور طعام میرے لئے چھوڑتا ہے ۔ روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں ۔ ایک خوشی افطار کے وقت۔ اور ایک خوشی دیدارِ الٰہی کے وقت ۔ اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مُشک کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ اور روزے ڈھال ہیں۔'' حدیث ٦: اِذَا دَخَلَ رَمَضَانَ فُتِحَتْ اَبْوَابُ الْجِنَانِ وَ غُلِّقَتْ اَبْوَابُ الْجَہَنَّمِ وَسُلْسِلَۃِ الشَّیَاطِیْنَ (بخاری) جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں ، اور شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں۔
|
سوال # 156526 حضرت، دو بچوں کے بعد اور حمل رکھنا نہیں چاہتا ہوں، اس کے لیے کیا صورت اپنانی چاہئے؟ براہ کرم! رہنمائی فرمائیں۔ جواب # 156526 Fatwa:277-254/L=3/1439 بغیر کسی مجبوری کے مانع حمل اشیاء کا استعمال مقصد شرع وشارع کے خلاف ہونے کی وجہ سے مکروہ ہے؛ البتہ اگر عورت کی صحت خراب ہو، تکالیف حمل برداشت کرنے کی طاقت نہ ہو، یا استقرار حمل میں ایسی تکالیف کا اندیشہ ہو جو ناقابل تحمل وبرداشت ہو، پہلے سے موجود بچے کی صحت خراب ہونے کا خطرہ ہو تو ان صورتوں میں عارضی طور پر قوت وصحت کی بحالی کے لیے مانع حمل دوا مثلاً: کوپرٹی کے استعمال کرنے یا عزل (منی باہر خارج) کرنے، یا کنڈوم یا اور کوئی مانع حمل دوا استعمال کرنے کی گنجائش ہوگی؛ البتہ کوئی ایسی صورت اختیار کرنا جس کی وجہ سے دائمی طور پر قوت تولید ختم ہوجائے ناجائز اور حرام ہوگا؛ اس لیے اگر آپ کی اہلیہ کو یہ عوارض نہیں ہیں تو آپ کے لیے بلاوجہ عارضی طور پر منع حمل کا استعمال بھی مناسب نہیں اور اگر یہ نیت ہو کہ بچہ ہونے کی صورت میں ان کے خرچے کا انتظام کیسے ہوگا تو اس نیت سے استقرار حمل نہ ہونے دینا جائز نہیں قرآن شریف میں اس کی مذمت آئی ہے۔ وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَکُمْ خَشْیَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُہُمْ وَإِیَّاکُمْ ”تم اپنے بچوں کو فقر وفاقہ کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم ان کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی“۔
|
کرسٹیانو رونالڈو نے ڈیڑھ ارب روپے کی کار خرید لی > Urduvoz پیرس(نیوزڈیسک)پرتگال اور جویئنٹس کے اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے ڈیڑھ ارب روپے کی کار خرید لی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بگاٹی کمپنی کی لمیٹڈ ایڈیشن گاڑی جس کی مالیت 8.9 ملین ڈالر جو پاکستانی روپوں میں تقریباً ایک ارب 47 کروڑ 29 لاکھ 50 ہزار روپے بنتی ہے۔کورونا وائرس کے لاک ڈاؤن کے باعث کمپنی نے بگاٹی سینٹوڈیک نام کی محض دس کاریں ہی بنائی ہیں۔رپورٹ کے مطابق گاڑی منظر عام پر آنے سے قبل ہی اس کے دس یونٹ خرید لیے گئے اور رونالڈو کو شمار ان خوش قسمت خریداروں میں ہوتا ہے۔گاڑی کا ڈیزائن 1990 سیریز کی گاڑی ای بی 110 سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے۔
|
فاسٹ باؤلر محمد عامر کا ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان لاہور (پبلک نیوز) فاسٹ باؤلر محمد عامر نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ محمد عامر ایک روزہ اور ٹی 20 کرکٹ کھیلتے رہیں گے۔ محمد عامر نے 2009 میں سری لنکا کے خلاف گال ٹیسٹ سے کریئر کا آغاز کیا تھا۔ 36 ٹیسٹ میچوں میں 30 کی اوسط سے 119 وکٹیں حاصل کیں۔ تفصیلات کے مطابق قومی ٹیم کے فاسٹ بولر محمد عامر نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے۔ محمد عامر پاکستان کے لیے ایک روزہ اور ٹی ٹونٹی کرکٹ کھیلتے رہیں گے۔ محمد عامر کا کہنا تھا کہ کرکٹ کے روایتی فارمیٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرنا میرے لیے اعزاز تھا۔ میں آئندہ میچز اور آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹونٹی 2020 میں شرکت کے لیے اپنی فارم اور فٹنس برقرارکھنے کی کوشش کروں گا۔ ٹیسٹ کرکٹ سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کا مشکور ہوں جنہوں نے مجھے اپنے سینے پر گولڈن اسٹار لوگو لگانے کا موقع دیا۔ ایم ڈی پی سی بی وسیم خان کا کہنا تھا کہ محمد عامر کا شمار موجودہ دور کے بہترین ٹیسٹ بولرز میں ہوتا ہے۔ قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم گراونڈ اور ڈریسنگ روم میں محمد عامر کی کمی محسوس کرے گی۔ واضح رہے کہ محمد عامر نے جولائی 2009 میں سری لنکا کے خلاف گال ٹیسٹ میں اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ محمد عامر نے 36 ٹیسٹ میچوں میں 30 کی اوسط سے 119 وکٹیں حاصل کیں۔ اپریل 2017 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کنگسٹن میچ میں 44 رنز کے عوض 6 وکٹیں محمد عامر کی ٹیسٹ کرکٹ میں بہترین بولنگ تھی۔
|
پارلیمانی پارٹی کا اجلاس اور دم توڑتا استحقاق۔۔۔۔عامر عثمان عادل | مکالمہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کسی بھی سیاسی جماعت کیلئے بہت اہمیت کا حامل ہوا کرتا ہے جس میں اسمبلی کے منتخب نمائندے اور قیادت مل بیٹھ کر رواں اجلاس کے ایجنڈے یا کسی بھی اہم ایشو پر اتفاق رائے کا حصول یقینی بناتے ہیں جماعتی پالیسیوں پر بحث ہوتی ہے اور ممبران اپنے مسائل سے قیادت کو آگاہ کرتے ہیں۔ اس وقت چودھری پرویز الہی وزیر اعلی پنجاب تھے کرسی صدارت پر جلوہ افروز ہوئے تو کاروائی کا آغاز ہوا، وزیر اعلی نے اراکین اسمبلی کو خوش آمدید کہا ،جماعت کی پالیسی واضح کی اور اسمبلی اجلاس میں متوقع قانون سازی پر روشنی ڈالنے کے بعد ہاوس کو اوپن کر دیا گیا اب تمام ممبران صوبائی اسمبلی اپنی اپنی باری پر سوال کرنے کو آزاد تھے۔ قصور سے ایک لمبے تڑنگے ایم پی اے گویا ہوئے جناب وزیر اعلی آپ نے پہلے اجلاس میں فرمایا تھا کہ اب ہر ایم پی اے خود کو وزیر اعلی پنجاب ہی سمجھے کچھ دن قبل پولیس میرے حلقے کے میٹرک کے طالب علم کو تھانے اٹھا کر لے گئی اور تشدد کا نشانہ بنایا میں آپ کے کہنے پر خود کو وزیر اعلی پنجاب سمجھ کر تھانے چلا گیا وہاں جاکر ایس ایچ او سے شکوہ کیا کہ آپ نے اس طالب علم پر چھترول کیوں کی تو تھانیدار بولا کی ہویا چودھری صاحب جے دو لتریاں پے گیاں۔۔۔ جناب وزیر اعلی میں کسی کام کے سلسلہ میں ممبر ریونیو بورڈ سے ملنے چلا گیا ان کے دفتر گیا تو صاحب بہادر میز پر ٹانگیں رکھے سگار سلگائے نیم دراز تھے مجھے دیکھ کر بھی وہ ٹس سے مس نہیں ہوئے اور الٹا بدتمیزی سے پیش آئے۔۔۔ وزیر اعلی پنجاب نے ان صاحب کو بھی یقین دہانی کرائی کہ آپ کی شکایت کا ازالہ کیا جائے گا۔ اب راولپنڈی سے ایک ممبر صوبائی اسمبلی اٹھے اور شکوے کے سے انداز میں کہنے لگے جناب وزیر اعلی مجھے فلاں ناکے پر پولیس نے روک لیا تعارف کرانے کے باوجود بد سلوکی سے پیش آئے جناب میرے ساتھ سخت زیادتی ہوئی ہے۔ بس پھر کیا تھا ایم پی ایز کو تو زبان مل گئئ سب ہی پولیس انتظامیہ اور افسران کے خلاف بھرے بیٹھے تھے وزیر اعلی کو پھر مداخلت کرنا پڑی کہ سب ٹھیک ہو جائے گا میرا گمان یہی تھا کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ایم پی ایز وزیر اعلی کی موجودگی میں عوامی مسائل کا رونا روئیں گے اپنے حلقوں کی محرومی کا ذکر کریں گے اور عام آدمی کو انصاف کی فراہمی کیلئے آواز بلند کریں گے لیکن یہاں تو گنگا ہی الٹی بہنے لگی تھی۔ لیکن یہ استحقاق اس وقت مجروح کیوں نہیں ہوتا جب ان کے حلقے کے کسی بے گناہ انسان کو پولیس بری طرح ذلیل کرتی ہے توہین کا احساس اس وقت کیوں نہیں ہوتا جب ایک عام آدمی اپنے جائز کاموں کے لئے سارا دن دفتروں کی خاک چھانتا ہے؟ ثابت یہ ہوا کہ ووٹ کی پرچی سے انہیں استحقاق کے لائق بنانے والے ووٹر کی نہ کوئی عزت ہے نہ ناموس!
|
انسان غلطی کا پتلا ہے -ایک زاہد اور متقی عالم کے بارے میں ایک زبردست واقعہ - IslamabadPoint انسان غلطی کا پتلا ہے -ایک زاہد اور متقی عالم کے بارے میں ایک زبردست واقعہ – کہتے ہیں ایک عالم تھا -وہ بہت متقی اور پرہیزگار تھا – ایک دن اس نے ایک چوہے کو مارڈالا اور اس کو اچھی طرح مختلف چیزوں میں لپیٹ کر اپنے ساتھ سنبھال کے رکھ دیا – بہت عرصہ گزر گیا – ایک دن وہ اپنے دوسرے عالم دوستوں کے ساتھ محفل میں بیٹھا تھا – یومے اخرت کے بارے میں باتیں ہو رہی تھی – تو اس نے اپنی جیب سے وہ محفوظ شدہ چوہا نکالا ور کہا کہ میں اس لیے اس کو ہمیشہ اپنے پاس رکھتا ہوں – جب روزے قیامت الله تعالی کے روبرو پیش ہونگا – تو الله تعالی سے کہوں گا کہ اسنے ساری عمر تیری عبادت کی ہے اور اپنی زندگی میں کبھی کوئی گناہ نہیں کی سواے اس کے کہ اس چوہے کو ہلاک کیا ہے – اس لیے اس کو جنت بھیج دیا جائے – پاس ہی بیٹھے ایک دوسرے عالم دوست نے اس وقت اس کے کیے گۓ عبادات پر پانی پھیردیا- جب اس نے کہا کہ یہ ایک ناپاک چیز ہے جس کو تم نے اپنے پاس رکھا ہے -جس سے تمہاری کوئی عبادت قبول نہیں ہوگی – اس واقعے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان غلطی کہ پتلا ہے -کبھی بھی اپنے اغمال کو بیان یا اس پر نازاں نہیں ہونا چاہیے نہ ہم الله تعالی کی نغمتوں کا صلا عبادات کی صورت میں پورا کر سکتے ہیں – بلکہ وہ ہمیں اپنی خاص رحمت و فضل کے ذریعہ جنت بھیجے گا –
|
انسٹاگرام اسٹوری پر اب گروپ چیٹ بھی ہوگی - Newsone Urdu انسٹاگرام اسٹوری پر اب گروپ چیٹ بھی ہوگی سماجی روابط کی معروف ویب سائٹ فیس بک کی فوٹو شیئرنگ ایپ ’انسٹا گرام ‘ نے ایک اور نئے فیچر کا اضافہ کردیا۔ انسٹاگرام اسٹوری کا پول آپشن اب گروپ چیٹ میں بھی فراہم ہوگا۔ صارفین اپنی اسٹوری میں دوستوں سے رائے معلوم کرنے کیساتھ ساتھ گروپ چیٹ بھی کرسکتا ہے، یہ سہولت گذشتہ روز سے آئی او ایس اور اینڈرائیڈ صارفین کے لیے دستیاب کردی گئی ہے۔ اس سہولت کے ذریعے صارفین فوری طور پر اپنے دوستوں سے مشورہ کرسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ رواں برس میں انسٹاگرام نے اپنی اسٹوری میں پول کا آپشن متعارف کرایا جس سے صارف اپنی اسٹوری میں دستوں کی رائے جان سکتے تھے۔ Tags: instagram, iOS, Android, 15/8/2018, poll sticker, Emoji Slider, Questions Stickers
|
ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر (ریونیو) اسد محمود لودھی نے ہرنو میں ہزارہ میوزمنٹ پارک سمیت تمام جھولے سیل کر دیئے ایبٹ آباد۔ 20 جون (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) صوبائی حکومت کی ہدایت کی روشنی میں ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر (ریونیو) اسد محمود لودھی نے ہرنو میں ہزارہ میوزمنٹ پارک سمیت تمام جھولے سیل کر دیئے۔ ایڈیشنل اے سی نے مالکان کو ہدایت کی کہ وہ چھ روز کے اندر سرٹیفکیٹ اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کر دہ این او سی پیش کریں، جھولوں کے صحیح ہونے کا مکمل سرٹیفکیٹ پیش کریں، کسی بھی حادثہ کی صورت میں مالکان ذمہ دار ہوں گے۔ تفصیلات کے مطابق لیڈی گارڈن حادثہ میں تین قیمتی جانوں کے ضیاع کے بعد صوبائی حکومت نے صوبہ بھر میں تمام جھولے سیل کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے ہدایات جاری کیں کہ جب تک مالکان سیفٹی سرٹیفکیٹ اور بیان حلفی پیش نہیں کرتے ان کے تمام جھولوں کو سیل کیا جائے۔ اس سلسلہ میں گذشتہ روز ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر (ریونیو) اسد محمود لودھی نے لوکل پولیس اور ٹی ایم اے سٹاف کے ہمراہ ہرنو میں ہزارہ میوزمنٹ پارک سمیت ہرنو میں موجود تمام جھولوں کو سیل کرتے ہوئے مالکان کو ہدایات جاری کیں کہ جب تک سیفٹی سرٹیفکیٹ پیش نہیں کرتے اس وقت تک تمام جھولے مکمل طور پر سیل رہیں گے۔ مالکان اپنی جانب سے بیان حلفی پیش کریں کہ کسی بھی حادثہ کی صورت میں تمام تر ذمہ داری جھولوں کے مالکان پر عائد ہو گی۔ حادثہپولیساین او سی
|
عضو خاص موٹا - اُم لشفاء ہربل فارما رجسٹرڈ Tag: عضو خاص موٹا
|
پیش بینی asl karbet | سایت پیش بینی سهراب ام جی برچسب: پیش بینی asl karbet
|
مستەفا مەولوودی: هێرشی تورکیە بۆ سەر ڕۆژاوای کوردستان مەحکووم دەکەین - KDPmedia Homeدیمانەمستەفا مەولوودی: هێرشی تورکیە بۆ سەر ڕۆژاوای کوردستان مەحکووم دەکەین 11/10/2019 دیمانە, هەواڵ ئەمڕۆ هەینی ١١ی ئۆکتۆبێری ٢٠١٩ی هەتاوی، بەڕێز مستەفا مەولوودی سکرتێری گشتیی حیزبی دێموکراتی کوردستان لە وتووێژێکی تەلەڤزیۆنیدا لەگەڵ تەلەڤزیۆنی “ڕووداو” باسی لە هەڵوێستی حیزبی دێموکراتی کوردستان کرد کە باسی هێرشی سەر ڕۆژاوای کوردستانی لە لایەن دەوڵەتی تورکیاوە کردوە و ئەو هێرشەی مەحکووم کردووە و هەروەها باسی لە هەڵوێستی هەڵنەسەنگێندراوی دەوڵەتی ئەمریکا کرد.
|
سپریم کورٹ: سرکاری بھرتیوں پر پابندی کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل | ڈیلی مشرق نیوز سپریم کورٹ: سرکاری بھرتیوں پر پابندی کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل اسلام آباد: سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات سے قبل سرکاری بھرتیوں اور ترقیاتی کاموں پر پابندی کا نوٹیفکیشن بحال کر دیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے لگائی گئی پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں الیکشن کمشنر سندھ یوسف خٹک پیش ہوئے اور بتایا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات کو شفاف بنانے کےلیے سرکاری بھرتیوں، ترقیاتی فنڈز اور نئے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری پر پابندی عائد کی تھی جسے اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کر دیا تھا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جو کام زیر التوا ہیں انہیں کیسے روکا جاسکتا ہے۔ الیکشن کمشنر سندھ نے کہا کہ پابندی نئے منصوبوں پر لگائی گئی ہے، کہیں ڈاکٹر یا کسی اور عملے کی ضرورت ہو تو الیکشن کمیشن اجازت دیتا ہے۔ عدالت نے نئے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری پر پابندی عائد کرتے ہوئے زیر التوا منصوبے مکمل کرنے اور ڈاکٹر و میڈیکل عملے کی تقرری کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ یاد رہے اسلام آباد ہائیکورٹ نے ترقیاتی منصوبوں، تبادلوں اور بھرتیوں پر الیکشن کمیشن کی جانب سے عائد کردہ پابندی ختم کر دی تھی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاق اورصوبوں کی درخواست منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کی جانب سے 11 اپریل کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا، جس میں عام انتخابات کے نزدیک ترقیاتی کاموں، تبادلوں اور بھرتیوں پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
|
وفاقی وزراسیمت318اراکین اسمبلی وسینیٹ کی رکنیت معطل | BaylaagNews وفاقی وزراسیمت318اراکین اسمبلی وسینیٹ کی رکنیت معطل اسلام آباد،(بےلاگ نیوز)الیکشن کمیشن نےوفاقی وزرا سیمت 318 اراکین اسمبلی و سینیٹ کی رکنیت معطل کر دی۔ تفصیلات کیمطابق الیکن کمیشن نے اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کروانے پر318اراکین کی رکنیت معطل کی ہے،وفاقی وزرا فروغ نسیم، فواد چودھری اور نورالحق قادری کے علاوہ حکومتی اراکین زرتاج گل، عامرلیاقت بھی رکنیت معطل ہونے والے اراکین میں شامل ہیں۔ سینیٹر مصدق ملک،نجمہ حمید، پیر صابر شاہ ،میر حاصل بزنجو اور سینیٹر تاج محمد آفریدی کی رکنیت بھی معطل، سندھ اسمبلی سے سہیل انور،نادر مگسی،سعید غنی،شہلا رضاء،شرجیل میمن کی رکنیت معطل،خیبرپختونخواہ اسمبلی سے عاطف خان،شوکت یوسفزئی کی رکنیت معطل پنجاب اسمبلی سےچوہدری نثار علی خان،سمیع اللہ چوہدری،اویس لغاری کی جبکہ بلوچستان سےثناء اللہ زہری،یار محمد رند کی رکنیت معطل
|
’’ہم کسی بھی وقت حملہ کر سکتے ہیں‘‘ امریکہ اور یہ ملک تیار رہیں ۔۔شمالی کوریا نے آخری ایٹمی تجربے کے بعد بڑا اعلان کر دیا بدھ 18 ستمبر 2019 لاسٹ اپ ڈیٹڈ : 22:29 منگل 20 ستمبر 2016 | 13:39 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے مطابق مصنوعی سیارے کو لانچ کرنے کے لیے ایک نئے راکٹ انجن کا زمین پر ’کامیاب‘ تجربہ کیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ ا?ن نے سائنس دانوں اور انجینیئرز سے کہا ہے کہ وہ سیٹلائٹ کو جلد سے جلد لانچ کرنے کی تیاریاں کریں۔کے سی این اے کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ ا?ن نے خود اس تجربے کی نگرانی کی۔ شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے مطابق راکٹ انجن کے تجربے کی مدد سے ملک کے مختلف قسم کے مصنوعی سیارے خلا میں بھیجنے کی صلاحیتوں میں قابل ذکر اضافہ ہو گا۔ ماہرین کے مطابق شمالی کوریا آنے والے دنوں میں طویل فاصلے پر مار کرنے والا راکٹ کا تجربہ کر سکتا ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ جمعے کو شمالی کوریا نے ایک کامیاب جوہری تجربہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اس کا پانچواں جوہری تجربہ ہے۔ دریں اثنا امریکہ اور چین نے شمالی کوریا کے پانچویں جوہری تجربے سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ میں تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔شمالی کوریا کی جانب سے رواں ماہ کے اوائل میں کیے جانے والے زیرِ زمین جوہری تجربے کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ اب تک کیے جانے والے جوہری تجربات میں سب سے طاقتور تجربہ ہے۔ شمالی کوریا باقاعدگی سے اپنے جوہری اور میزائل پروگرامز کی ترقی کے بارے میں دعوے کرتا رہتا ہے تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کے متعدد دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق کرنا ناممکن ہے۔خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے نا معلوم سفارت کاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی اور چینی حکام نے شمالی کوریا پر اقوامِ متحدہ کی جانب سے ممکنہ پابندیوں کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔شمالی کوریا نے پانچویں مبینہ تجربے کے بعد امریکہ و جنوبی کوریا کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی ان پر حملہ کر سکتا ہے۔ موضوعات:امریکہ جنوبی کوریا شمالی کوریا
|
عامر لیاقت ایک بار پھر پی ٹی آئی سے ناراض | Shamma News | World News, Pakistan News, National News | Shamma News | World News, Pakistan News, National News عامر لیاقت ایک بار پھر پی ٹی آئی سے ناراض – Shamma News | World News, Pakistan News, National News Home صفحہ اول پاکستان عامر لیاقت ایک بار پھر پی ٹی آئی سے ناراض عامر لیاقت ایک بار پھر پی ٹی آئی سے ناراض کراچی (نیوز ڈیسک) ایم کیو ایم چھوڑ کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونیوالے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے ایک بار پھر پی ٹی آئی سے ناراضی کا اظہار کردیا، کہتے ہیں کہ مجھے مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے فردوس عاشق اعوان اور علی زیدی پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے شدید تنقید کی۔بحری امور کے وزیر علی زیدی نے چند ہفتوں قبل کلین کراچی مہم کا آغاز کیا تھا، عامر لیاقت نے شکوہ کیا کہ میں کراچی سے تعلق رکھتا ہوں اور اس شہر کیلئے بہت کچھ کرسکتا ہوں، لیکن مجھ سے اس حوالے سے پوچھا تک نہیں گیا، مجھے نہیں پتہ کہ مجھے کیوں استعمال نہیں کیا جارہا۔ان کا کہنا تھا کہ شاید علی زیدی کراچی کے میئر بننا چاہتے ہیں، عامر لیاقت نے یہ بھی کہہ دیا کہ علی زیدی اس عہدے کیلئے ایک اچھا انتخاب ہوں گے۔پارٹی چھوڑنے سے متعلق سوال پر وہ بولے کہ عمران خان میری محبت ہیں، میں انہیں کبھی نہیں چھوڑ سکتا، وہ میری زندگی ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کردیا کہ میں درباری نہیں ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ خان صاحب نے مجھے درس دیا ہے کہ جہاں بھی غلطیاں ہوں ان کی نشاندہی کریں، تاہم انہیں لگتا ہے کہ مرکزی قیادت انہیں نظر انداز کررہی ہے، اس بات کے اظہار کے بعد بھی عمران خان سمیت کسی پارٹی رہنماءنے رابطہ نہیں کیا۔وزیراعظم عمران خان سے رابطے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرے کبوتر اب وزیراعظم ہاو¿س کی جانب نہیں جاتے، کوئی باز آکر انہیں لپک لیتا ہے۔ Previous articleصحافی برادری کا سکرنڈ پریس کلب کے سامنےاحتجاجی مظاہرہ Next articleکرکٹ میں حالات کے مطابق فیصلے لینا پڑتے ہیں، اظہر علی
|
کنویں کی پاکی یا ناپاکی کے احکام( ۱7)؟ - Q. & Ans. > Taharat / Purity / کتاب الطہارت - - Fiqh - Alahazrat Network Fiqh > Q. & Ans. > Taharat / Purity / کتاب الطہارت > کنویں کی پاکی یا ناپاکی کے احکام( ۱7)؟ کنویں کی پاکی یا ناپاکی کے احکام( ۱7)؟ Published by Admin2 on 2012/3/9 (994 reads) مسئلہ ۹۴: از امر تسر تحصیل امرتسر ڈاک خانہ خاص وڈالہ ومرم مسئولہ شمس الدین صاحب ۲۴ ذی القعدہ ۱۳۳۴ھ حامی حمایت دین مفتی شرع مجتبیٰ مولٰنا احمد رضا خان صاحب مدظل فيوضاتہ آپ اس مسئلہ کو کامل وجہ سے تحریر فرمائیں کہ ایک چاہ جس کا پانی تمام نکالنا دشوار ہے جب وہ ایسا ناپاک ہوجائے جس سے اُس کا تمام پانی نکالنے کا حکم ہے یعنی وہ چشمہ دار ہے تو مثلاً زید کہتا ہے کہ اس کا تمام پانی تین روز میں نکالا جائے، اور ایک کہتا ہے کہ جب بقول مفتی بہ تین سو ڈول سے چاہ چشمہ دار پاک ہوسکتا ہے تو تین روز میں پانی نکالنے میں ایک تو وقفہ درمیان واقع ہوتا ہے اور دوم تکلیف مالایطاق ہے غرضکہ جس قدر ڈول نکالنے کا حکم ہے اگر اس میں وقفہ واقع ہو یعنی پانی حرکت سے ٹھہر جائے تو وہ ڈول کشیدہ محسوب ہوں گے یا نہیں وہ شخص باوجود جہالت کے قول مفتی بہ کا خلاف کرتا ہے وہ مستحق فتوٰی دینے کا ہے یا نہیں۔ الجواب: جبکہ کنواں چشمہ دار ہے اُس میں پانی پیمائش سے دریافت کرلیں کہ اتنے ڈول ہے اور اس کا یہ آسان طریقہ ہے کہ رسّی میں کوئی پتھّر باندھ کر کنویں میں اس طرح چھوڑیں کہ رسّی میں خم نہ آئے جس وقت پتھّر تَہ تک پہنچ جائے معاً ہاتھ روک لیں پھر جس قدر رسّی پانی میں بھیگی اُسے ناپ لیں اور مثلاً چار شخص پچیس۲۵ پچیس۲۵ ڈول جلد کھینچیں پھر اُسی طرح ناپیں فرض کرو کہ ان سو۱۰۰ ڈولوں کے سبب ایک ہاتھ پانی کم ہوگیا اور پیمائش میں مثلاً دس ۱۰ہاتھ آیا نوسو۹۰۰ ڈول اور نکال لیں سو۱۰۰ وہ مل کر دس ہاتھ ہوجائیں گے پانی نکالنے میں صحیح مذہب یہی ہے کہ پے درپے ہونا ضرور نہیں اگر ایک ڈول روزانہ کرکے نکالیں جب تعداد مطلوب پُوری ہوجائے گی کنواں پاک ہوجائے گا نص علیہ فی الدرالمختار وغیرہ من معتمدات الاسفار۱؎ (درمختار وغیرہ معتمد کتابوں میں اس پر نص کی گئی ہے۔ ت) (۱؎ الدرالمختار فصل فی البئر مجتبائی دہلی ۱/۳۹) تین سو۳۰۰ ڈول پر فتوٰی بغداد شریف کے کنووں کے اعتبار سے ہے وہاں کنویں میں اسی قدر پانی ہوتا ہے اور جہاں کُل پانی نکالنے کے حکم میں ہزار ڈول پانی ہے تین سو۳۰۰ ڈول سے ہزار ڈول کیسے ادا ہوسکتے ہیں، واللہ تعالٰی اعلم ناپاک کنویں سے انجانے میں نہایا تو کیا حکم ہے؟ کنویں کی پاکی یا ناپاکی کے احکام( ۱8)؟
|
۱۹۵۸ میں الجزائر کے انقلابی فرانز فانون نے خوب کہا تھا کہ نوآبادیاتی نظام کے خلاف کامیابی اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب ہم ’’ان خونی بھیڑیوں کو کسی بھی اکیلے دنبہ پر حملہ نہ کرنے دیں‘‘۔ اس اصول کی بنیاد پر ریاستی و غیر ریاستی سطحوں پر کام نظر آتا ہے۔ ریاستی سطح پر غیرجانبدار تحریک (نان آلائنمنٹ موومنٹ) جس کا تصور بانڈنگ میں اور تشکیل ۱۹۶۱ میں بلگریڈ میں ہوئی تھی۔ تاکہ نوآبادیاتی نظام سے آزاد نئی ریاستوں کو عالمی سطح پر ایک پلیٹ فارم میسر ہو جہا ں وہ اپنے پرانے آقاؤں کے مدمقابل کھڑی ہو سکیں۔ اسی طرح ہمیں لوگوں کی سطح پر اور مختلف تحریکوں کی سطح پر بھی آپس میں جڑت نظر آتی ہے۔ اسی جڑت اور یگانگی کی حکمتِ عملی کے ساتھ ایک ’’ نئی انسانیت ‘‘ کا تصور جڑا ہوا ہے۔ آزادی کی جدوجہداور مزاحمت کا درس ہی اس انسانیت کی بنیادیں ہیں۔ ۱۹۶۷ میں چی گیوارا نے اس انسانیت کے ایک پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے عالمی یکجہتی کا درس دیا۔ چے نے کہا ’’ خون کی ہر وہ بوند جو کسی دوسرے ملک میں گرے، ایک ایسا مشترکہ تجربہ بن جاتی ہے جو بعد میں تمہارے اپنے ملک کی آزادی کی جنگ کا حصہ بنتی ہے۔ اور ہر قوم کی آزادی ہماری اپنی آزادی کی جنگ میں ایک فتح ہے۔ ‘‘ تو تیسری دنیا کی عالمی یکجہتی محض ایک سیاسی نعرہ ہی نہیں، بلکہ ایک نئی انسانیت کی بنیاد ہے۔ فیض احمد فیض پر بھی یہ حقیقت عیاں تھی۔ جب وہ بیروت میں مقیم تھے تو انھوں نے فلسطین کی حمایت میں چار نظمیں تحریر کیں۔’’فلسطینی شہداجوپردیس میں کام آئے‘‘ ایک جذبات انگیزنظم ہے جس میں فیض نے فلسطینی جدوجہد میں عالمیت کے ابھرتے ہوئے احساس کو اجاگر کیا: دور پردیس کی بے مہر گذرگاہوں میں جس زمیں پر بھی کھُلا میرے لہو کا پرچم تیرے اعدا نے کیا ایک فلسطیں برباد میرے زخموں نے کیے کتنے فلسطیں آباد تیسری دنیا میں خواہشِ اتحاد کا سبب ہے ایک ہی ظالم کے ہاتھوں ظلم و ستم کی مشترکہ تاریخ ۔ امریکہ سے انڈیا اور جنوبی افریقہ سے فلسطین تک زمین کے خزانے لوٹے گئے اور مختلف رنگ و نسل کے لوگ بے گھر بھی ہوئے اور قتل بھی۔ یکجہتی نہ صرف قدرتی ردِعمل ہے بلکہ واحد حکمتِ عملی بھی۔ یاد رہے کے استحصالی قوتیں ہمیشہ متحد ہوتی ہیں۔ اور اب اس تنقید پر دھیان دیں کہ ہمیں فلسطینیوں کی فکر چھوڑ کر بلوچوں کا سوچنا چاہیے جو افواجِ پاکستان کے ظلم کا شکار ہیں۔ یہی بات اکثر صیہوانی حلقوں سے بھی سننے کو ملتی ہے کہ ’تم لوگ اپنے گھر کے مسائل پر توجہ دو، فلسطین کے معاملے میں مداخلت کیوں کرتے ہو‘۔ لیکن کیا یہ ضروری ہے کے ہم فلسطین اور بلوچستان سے صرف ایک ہی چنیں؟ ایسی سوچ تو بلکل غیر منطقی ہے۔ اس کے برعکس اس قسم کی تحریکیں ایک دوسرے کے تجربات سے بہتر سبق سیکھ سکتی ہیں چونکہ دونوں مسائل کی جڑ میں نوآبادیاتی نظام ہے۔ میرے موقف کی بنیا د تیسری دنیا کی سیکولیرعالمیت کا نظریہ ہے جو عالمیت کی دوسری اقسام سے بہت مختلف ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ امتِ مسلمہ کے اس اسلامی نظریہ پر دھیان دیں جس کا استعمال پچھلے پچاس سالوں میں پاکستانی ریاست اور دائیں بازو تحریکوں نے بے جا کیا، تو آپ دیکھ لیں گے کہ اس نظریہ کو فروغ دینے کے لئے جدوجہدِ آزادی فلسطین کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔ کہانی کچھ یوں گھڑی جاتی ہے کہ چونکہ فلسطینی مسلمان ہیں اس لئے وہ یہودیوں اور عیسائیوں کے عتاب کا شکار ہیں۔ اس من گھڑت داستان کا استعمال کر کے پاکستانی فوج نے جہادی قوتوں کو پال پوس کر بڑھا کیا اور پھر انہیں پاکستان کے اندر (بلوچستان) اور پاکستان سے باہر کشمیر، بھارت، اور افغانستان میں استعمال کیا۔ نہ تو ملا اور نہ ہی فوج مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے کوئی مناسب لائے عمل دے سکے۔ انہوں نے تو بس اس مسئلے کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کیا۔ حبیب جالب نے اپنی نظم ’’ مولانہ ‘‘ میں کیا خوب کہا۔ سنا ہے جمی کارٹر ہے آپ کا پیر، مولانا زمینیں ہوں وڈیروں کی، مشینیں ہوں لٹیروں کی خدا نے لکھ کے دی ہے یہ تحریر، مولانا کڑوڑوں کیوں نہیں مل کر فلسطین کے لیے لڑتے دعا ہی سے فقت کٹتی نہیں زنجیر، مولانا فلسطین کی حمایت حق کی حمایت ہے۔ دنیا بھر کے مظلوموں کے ساتھ شانہ بشانہ چلںا ہمارا اخلاقی فریضہ ہے۔ کہ ہم مل کر ایک نئی انسانیت کی بنیاد رکھیں۔ یہ ہمارا فرض ہے۔ جیسا کہ فانون نے یاد دہانی کروائی تھی: ’’ مستقبل ان مردوں اور عورتوں کو ہرگز معاف نہیں کرے گا جوظالم کے منہ پر سچ بولنے کی سکت تو رکھتے تھے، پروہ رہےچپ اورعملََ کچھ نہ کیا۔ بلکہ شریکِ جرم بھی بنے۔ ‘‘ (مصنف اس مضمون کے لکھنے میں زہرہ ملکانی کی مدد کا مشکور ہے۔ ) قلندر بخش میمن نیکڈ پنچ کے مدیر ہیں اور حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ڈسپیچز فرام پاکستان کے شریک مدیر بھی ہیں۔ دیگر مضامین>>
|
بہت نشیب و فراز سے گذرے ہیں شاہد کپور : رضی احمد : بہت نشیب و فراز سے گذرے ہیں شاہد کپور ‘جب وی میٹ، ‘کمینے، ‘راجکمار، اور ‘حیدر جیسی فلموں سے شہرت حاصل کرنے والے اداکار شاہد کپور نے اپنے کریئر میں بہت سے نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ آج کی تاریخ میںا سٹار بننا بہت آسان ہے لیکن سٹار بنے رہنا انتہائی مشکل ہے۔ شاہد کپور نے کہا، ‘آج سوشل میڈیا کی مدد سے کوئی بھی سٹار بن سکتا ہے لیکن ناظرین ایک ہی چیز بار بار دیکھ کر بور جاتے ہیں اس لیے سٹار بنے رہنا انتہائی مشکل ہے اور اسی وجہ سے مختلف کام کرتے رہنا ضروری ہے۔شاہد کپور کے مطابق آج کے دور میں صرف مقبولیت کے پیچھے بھاگنے سے کام نہیں چلتا۔ حال ہی میں باپ بننے والے شاہد کپور کو اب ہر وقت گھر جا کر بیٹی اور بیوی کے ساتھ وقت گزارنے کی فکر رہتی ہے۔ایک معروف اور مصروف شخصیت ہونے کے سبب شاہد یہ تسلیم کرتے ہیں کہ بیٹی کو تنہائی میں وقت دینا بہت مشکل ہے۔کمینے اور ‘حیدر کے بعد وشال بھاردواج کے ساتھ ‘رنگون ان کی تیسری فلم ہوگی۔ شاہد کپور نے فلم ’رنگون‘ کے سیٹ پر وشال بھردواج کی جانب سے خود کو نظر انداز کیا گیا محسوس کیا تاہم انھیں اس بات کی شکایت نہیں ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایک ڈائریکٹر ہونے کے ناطے وہ کئی چیزوں میں الجھے ہوئے تھے۔ وشال بھردواج کے ساتھ اپنی دس سالہ رفاقت کے بارے میں شاہد نے بتایا: ‘کمینے بڑی فلم تھی، میرا اور وشال جی کا اچھا وقت چل رہا تھا تاہم پہلی بار کام کرتے ہوئے ہم دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ایڈجسٹ ہونے میں وقت لگا۔ شاہد نے تسلیم کیا كہ ‘کمینے سے ان میں بطور اداکار اعتماد پیدا ہوا۔دوسری عالمی جنگ کے پس منظر پر مبنی فلم ‘رنگون میں شاہد کپور برطانوی انڈین آرمی کے ایک رکن کے کردار میں نظر آئیں گے۔ فلم میں کنگنا راناوت اور سیف علی خان بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ کنگنا راناوت کی فلم رنگون میں ان کے ساتھ سیف علی خان اور شاہد کپور اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔کنگنا راناوت بھی کمال کی اداکارہ ہیں وہ کب ایکٹنگ کرتی ہیں اور کب سچ بولتی ہیں پتہ ہی نہیں چلتا۔ ویسے ان کی زندگی بھی کسی مصالحے دار فلم سے کم نہیں جس میں رومانس ہے، بریک اپ ہے اور تو اور کلائمکس کے ساتھ ساتھ عدالت کا منظر بھی ہے۔چند روز پہلے انھوں نے انکشاف کیا کہ وہ سنگل نہیں ہیں اور شادی بھی کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کون ‘خوش قسمت ہے اور وہ یہ کارنامہ کب انجام دینے والی ہیں۔ کنگنا جب سے بالی ووڈ میں آئی ہیں کئی اہم شخصیات کے ساتھ ان کا نام جوڑا گیا ہے جن میں آدتیہ پنچولی اور رتک روشن شامل ہیں۔ رتک کے ساتھ ان کی لڑائی تو قانونی نوک جھونک تک پہنچ گئی تھی۔بحر حال کنگنا کا کہنا ہے کہ شادی کے لیے ان کی ایک ہی شرط ہے کہ ان کا شریکِ حیات بھی رشتے کو پوری ایمانداری سے نبھائے۔ کنگنا نے پروموشن کے دوران بہت اچھی اچھی باتیں کیں لیکن یہ نہیں بتایا کہ کیا یہ فلم کا پروموشن ہے یا پھر وہ واقعی سنجیدہ ہیں۔ ایروانڈیا شو: رافیل نے دی ونگ کمانڈر ساحل گاندھی کو خراج تحسین پیش - February 20, 2019 آخر کار ساتھ نظر آئیں گے کپل شرما اور ڈاکٹر مشہور گلاٹی - February 20, 2019 ← انتخابی مہمات کیا نفرت آمیز جملے بازیوںنے حقیقی مسائل کی جگہ لے لی ہے؟ صباقمر:سلمان اور ریتک کے بارے میں ریمارکس محض مذاق → فل انٹرٹینمنٹ ہے’بھیاجی سپرہٹ‘ گل پناگ کا فینس فنڈا
|
شیخ سر عبدالقادرؒ کی یاد میں 20 نومبر 2013 1:19 AM, November 20, 2013 شیخ سرعبدالقادرؒ برصغیر پاک و ہند اور قیام پاکستان کے بعد پاکستان کے عظیم رہنماﺅں میں سے ایک تھے۔ وہ 1874ءمیں لدھیانہ (انڈیا) میں پیدا ہوئے اور 9فروری 1950ءکو رحلت پا گئے .... سرعبدالقادر کی وجہ شہرت ایڈیٹر رسالہ مخزن، ادیب، اردودان، مفکر، سیاست دان، وکیل، چیف جسٹس، وزیرتعلیم اور مسلمانوں کے عظےم قومی رہنما کی تھی۔آپ کا شمار مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال، مولانا شبلی نعمانی، حفیظ جالندھری، مولانا ظفر علی خان، بابائے اردو مولوی عبدالحق ،سردار عبدالرب نشتر، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر، الطاف حسین حالی، داغ، اکبر الٰہ آبادی، عبدالمجید سالک، سجاد حیدر یلدرم، مولانا حسرت موہانی اور دیگر عظیم مسلمان رہنماﺅں کے انتہائی قریبی دوستوں میں ہوتا تھا۔ آپ ہی وہ واحد ہستی ہیں، جنہوں نے علامہ اقبالؒ کی شہرئہ آفاق کتاب ”بانگ درا“ اور خالقِ ترانہ پاکستان حفیظ جالندھری کے ”شاہنامہ اسلام“ کا دیباچہ لکھا....اردو زبان کے لئے آپ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ اردو زبان کی ترویج و اشاعت اور آبیاری کے لئے آپ کے رسالہ مخزن کا ذکر کئے بغیر اردو کی تاریخ نامکمل ہے۔ آپ کے زیر سایہ بہت سے عظیم شاعر، ادیب، مصنف، نظم و نثر نگار اور اردو کے بڑے نام منظر عام پر آئے اور آپ نے سب کی سرپرستی فرمائی۔ قیام پاکستان اور تحریک پاکستان کے لئے آپ کی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں۔سرسید احمد خان کے مکتب فکر اور تحریک علی گڑھ کے نامور زعماءمیں آپ کا شمار ہوتا ہے۔ آپ مسلمانوں کو پھلتا پھولتا، تعلیم یافتہ، تہذیب یافتہ، آزاد اور ترقی کرتے ہوئے خوشحال دیکھنا چاہتے تھے۔ اس کے لئے انہوں نے اپنی زبان، کلام، تحریر و تقریر غرض دامے درمے، سخنے ہر لحاظ سے آپ نے کام کیا۔شیخ عبدالقادر ایک بلند پایہ ءادیب، انشاءپرداز اور اخبار نویس تھے، جن کا سب کچھ وطن اور ملت کے لئے وقف تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم قصور سے لی، پھر ایف سی کالج سے گریجوایشن کیا۔1906ءمیں انگلستان سے بارایٹ لاءکیا۔ لاہور میں پریکٹس شروع کی۔وہ لاہور ہائیکورٹ کے جج اور بہاولپور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بھی رہے۔ قیام پاکستان سے قبل پنجاب کے وزیر تعلیم بھی رہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی اہم سرکاری عہدوں پر فائز رہے۔آپ کا شمار برصغیر کی عظیم ترین شخصیات میں ہوتا تھا۔علامہ اقبال آپ کے ذاتی دوست تھے۔ 1901ءمیں آپ نے لاہور سے اردو ادبی رسالہ ”مخزن“ جاری کیا، جو ایک تاریخی حیثیت کا حامل ہے۔ 1927ءمیں اس وقت کی حکومت نے آپ کی خدمات کے اعتراف کے طور پر آپ کو ”سر“ کا خطاب دیا۔آپ نے بہت سارے مضامین کے علاوہ سفرنامہ یورپ اور ترکی کا سفرنامہ ”دربارِ خلافت“ کے نام سے لکھا۔آپ کو سیاحت کا بڑا شوق تھا۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے انگلستان، جرمنی، امریکہ، اٹلی، یورپ اور ترکی کے سفر کئے۔ آپ سیروسیاحت کی غرض سے ترکی بھی تشریف لے گئے۔ استنبول میں خلافت ِ عثمانیہ کے خلیفہ سلطان عبدالحمید ثانی سے بھی ملے۔ترکی کی عظیم ہستیوں کے علاوہ شیخ الاسلام بڑے بڑے پاشاﺅں اور رہنماﺅں سے ملاقاتیں کیں۔ سلطان خلیفہ الوقت شیخ سرعبدالقادر کی شخصیت ،علم دوستی اور قابلیت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہیں تمغہ ءحمیدیہ بھی عطا فرمایا جو آپ کی خدمات کا ایک بڑا اعتراف بھی تھا۔ ساری زندگی آپ کی یہ خواہش رہی کہ مسلمانانِ برصغیر جاگ اٹھیں۔ان کی قسمت جاگے اور وہ بھی دنیا کی معزز اقوام میں برابر کی جگہ لیں۔ان کے دل میں ملک و قوم کی ترقی، خوشحالی اور فارغ البالی کے لئے بے انتہا تڑپ، امنگ اور جستجو تھی۔وہ ہر وقت یہی سوچتے رہتے تھے کہ کاش میری قوم بھی دنیا کی دیگر اقوام کے مقابلے میں ایک پُروقار اور باعزت قوم کی حیثیت سے کھڑی ہو سکے۔ ہماری تعلیمی ،صنعتی، تجارتی ،تہذیبی و تمدنی ترقی دنیا کی دیگر اقوام کے مقابلے میں ایک قدم آگے ہو۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آج ہم بحیثیت قوم اپنی نوجوان نسل کو شیخ سر عبدالقادر جیسی عظیم شخصیت کے افکار و نظریات اور قومی خدمات سے روشناس کرانے اور آگاہ کرنے کے لئے اقدامات کریں، تاکہ ہماری نوجوان نسل میں اپنے اسلاف کے بارے میں آگاہی پیدا ہو اور وہ حب الوطنی اور قومی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہو سکیں۔ اس سلسلے میں حکومت کو چاہیے کہ سرکاری سرپرستی میں ادارے قائم کرے۔شیخ سر عبدالقادر کے افکار و خیالات پر مبنی آپ کی تحریروں، تقاریر، مضامین سفرنامے اور دیگر نگارشات کو شائع کروائے۔درسی کتب میں آپ کے بارے میں مضامین شامل ہوں۔آپ کی یادداشتوں کے کاغذات سے کئی صندوق بھرے پڑے ہیں۔اس حوالے سے آپ کے خاندان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ ٭
|
جشنِ ولادت۔۔چند توجہ طلب پہلو | Jasarat Blog جشنِ ولادت۔۔چند توجہ طلب پہلو ہمارے ایک صحافی دوست نے بہت ہی عجیب سی تحریر پوسٹ کی جو عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حوالے سے تھی وہ تحریر ہم یہاں بیان نہیں کرنا چاہتے بس اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ انہیں ایسا لکھنے کا موقع دینے والے ہم خود ہیں ۔ہم نے متبرک اور انتہائی اہم دنوں کو بھی اپنی تفریح کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ ہم نے کیونکہ ایک مذہبی گھرانے میں آنکھ کھو لی تھی اس لئے ہما رے گھر میں ٹی وی کا کوئی وجود نہیں تھا اور نہ ہی ہمیں کوئی اتناشوق تھا مگر ہمارے والد محترم کو ہر مذہبی دن زبانی یاد ہوا کرتا تھا اور ہمارے گھر میں تمام اسلامی دن مذہبی جوش وخروش سے منائے جا تے تھے۔ ہر نیاز کا بہت اہتمام کیا جاتا تھا ہم اپنے پہلے ایک کالم میں شبِ برات کے حلوے کے بارے میں لکھ چکے ہیں اور اس دفعہ جب محلے کے گھر سے چکن اور بیف بریانی آئی توہم نے اپنے صاحبزادے کو کہا کہ ہم بچپن میں تو لوگوں کے گھر خود جا جا کر بانٹا کر تے تھے اور ربیع الاو ل میں تو ہمارے یہا ں عیدکا سماں ہو تا تھا ۔ہم پورا دن خوب کھاتے تھے اور خوب بانٹتے تھے مگر آ ج کا 12 ربیع الاول ہما رے 12 ربیع الاول سے مختلف ہے۔ اب لوگ چراغوں کے بجائے چا ئنالائٹ لگا تے ہیں جو کہ واقعی ایک خوب صورت منظر پیش کر تی ہیں ہم اپنے زمانے میں 12 ربیع الاول کی رات مسجد میں جا گتے تھے اور صبح تک عبا دت کرتے تھے اور مسجد میں ہی سحر ی کا انتظا م ہو تا تھا اور سحری کر کے گھر آتے تھے ،مگر اس مرتبہ 12ربیع الاول کی شان ہی نرالی ہے ہر طرف صبح بہاراں ہے، پورے کراچی کو دلہن کی طر ح سجایا گیا ہے ہر طرف نعتوں کی آواز یں اور یا رسول اللہﷺ کی صدائیں۔ ہم بھی اپنے دوست و احباب کے ساتھ چراغا ں دیکھنے نکلے اور بہت سی جگہوں پر گئے مگر ہم یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ جس ڈھنگ سے کیا جا رہا ہے وہ صحیح ہے یا نہیں ؟ہرجگہ بڑی بڑی گا ڑیوں پر بڑے بڑے اسپیکرزرکھ کر نعتیں چلانا ،بر قی قمقمے اسطرح لگا نا کہ روڈ بند ہو جائے، لنگر اسطرح بانٹنا کے رزق کی بے حرمتی ہو،بے شک یہ دن ہرمسلمان کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور بطور امت محمدی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہمیں اس دن کے شایان شان ہمیں منانا چاہیے۔ اور اس دن کو منانے کے بہت سے اسلامی حوالے بھی ملتے ہیں جیسا کہ ابو لہب کا واقعہ ہے کہ اس نے اپنی باندی ثوبیہ کو صرف اس بات پر آزاد کردیا تھا کہ اس نے محمدﷺ بن عبداللہ کی پیدائش کی خوشخبری سنائی تھی ۔ ابو لہب کے انتقا ل کے بعدحضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے خواب میں دیکھا اور پو چھا کہ تمہا رے ساتھ کیا سلو ک ہوا ؟ تواس نے بتایا کہ تم سے جدا ہو نے کے بعد عذا ب میں مبتلا ہو ں مگر ہر پیر کے دن ا نگلی سے ٹھنڈ ک ملتی ہے جس انگلی کے اشارے سے میں نے اپنی باندی ثوبیہ کو محمدﷺ بن عبداللہ کی پیدائش پر آزادکر دیاتھا۔ غورطلب بات یہ ہے کہ جب ابو لہب جیسے دشمن رسول، کا فر کو اپنے بھتیجے محمدﷺبن عبداللہ کی ولادت کی خو شی منا نے پر جہنم میں را حت مل سکتی ہے تو ایک مسلمان کو محمدرسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت کی خوشی منانے پر بے پایا ں اجر کیوں نہیں ملے گا؟۔ امام محمد بن اسماعیل بخاری نے بھی اس واقعہ کو بیان کیا ہے(صحیح بخاری:5101);علامہ ابوالقاسم لکھتے ہیں ” ابلیس ملعون زندگی میں چار مرتبہ چیخ مار کر رویا۔پہلی مرتبہ جب وہ ملعون قراردیا گیا۔دوسری مرتبہ جب اسے بلندی سے پستی کی طرف دھکیلا گیا۔تیسری مرتبہ جب سرکار دو عالم نور مجسم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی ،چوتھی مرتبہ جب سورة الفاتحہ (الحمد شریف) نازل ہوئی۔“ (روضاالانف جلد اول) جشن عید میلادالنبی کا منانا قرآن وحد یث سے ثابت ہوا، یہ بھی ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت کی خوشی پر صرف شیطان کوتکلیف ہوئی۔شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں” حدیثوں میں آیاہے شب میلادمبارک کو عالم ملکوت (فرشتوں کی دنیا ) میں ندا کی گئی کہ سارے جہاں کو انوار قدس سے منور کردو ،زمین وآسمان کے تمام فرشتے خوشی و مسرت میں جھوم اٹھے اور داروغہ جنت کو حکم ہوا کہ فردوس اعلیٰ کو کھول دے اور سارے جہان کو خوشبوئوں سے معطر کردے “ (مدارج النبوة)طبقات ابن سعد میں ہے کہ ” جب سرور کائنات کا ظہور ہوا تو ساتھ ہی ایسا نور نکلا جس سے مشرق تا مغرب سب آفاق روشن ہو گئے۔ ایک دفعہ آقا ئے دو جہاں سرورکون ومکاں کے گرد صحابہ کرام اس طرح جھرمٹ بنائے ہوئے بیٹھے تھے جیسے چاند کے گرد نور کا ہالہ ہوتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا یارسو ل االلہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی ولادت کے بارے میں کچھ ارشاد فرمائیے، تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ” میں اپنے باپ حضرت ابراہیمؑ کی دعا اور حضرت عیسیٰ ؑکی بشارت ہوں“۔حضرت امام قسطلانی فرماتے ہیں کہ جس رات نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پیدا ہوائے وہ رات لیلةالقدرسے بھی افضل رات ہے۔ اس لئے کہ لیلةالمیلاد میں سرکار دو عالم کا ظہورہوا جبکہ لیلةالقدرتو آپ کو عطا ہوئی ہے۔ (سیرت محمدیہ ) میرے پیر و مرشد حضرت پیر سید فیروز شاہ قاسمی فرماتے ہیں کہ امت مسلمہ کیلئے اس سے بڑی کوئی نعمت نہیں ہو سکتی، اس سےبڑھ کر زیاد تی کیا ہوگی کہ محفل میلاد کو ”بدعت “ قرار دیا جا ئے اور ہمیں اہل بد عت کے نام سے پکا را جائے “ہما را مو قف بھی یہی ہے کہ میلاد النبیﷺ کے نام سے قا ئم مجا لس اور جلوسوں کو ہر قسم کی بد عات ،منکرات اور خرافات سے پاک ہو نا چاہئے تا کہ چند لو گو ں کی بے اعتدالیوں کی بنا پر ایک مستحسن امر کے خلا ف منفی پروپیگنڈے کاجواز نہ مل سکے ۔معروف اہلحد یث عالم علامہ وحید الزما ن لکھتے ہیں :”اس حدیث (یعنی رسول اللہ کا پیر کا رو زہ رکھنے )سے ایک جما عت علما ئےنے آپ کی ولادت کی خو شی یعنی مجلس میلاد کر نے کا جواز ثا بت کیا ہے۔اور حق یہ ہے کہ اگر اس مجلس میں آپ کی ولادت کے مقا صد اور دنیاکی رہنما ئی کے لئے آپ کی ضرورت اور امور پر ،رسالت کی حقیقت کو با لکل صحیح طر یقہ پر اس لئے بیان کیا جا ئے کہ لو گوں میں اس حقیقت کا چر چا ہواورسننے والے یہ ارداہ کر کے سنیں کہ ہم کو اپنی زند گیا ں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے مطا بق گزارنا ہیں اور ایسی مجالس میں کو ئی بد عت نہ ہو ،تو مبا رک ہیں ایسی مجالس اور حق کے طا لب ہیں، ان میں حصہ لینے والے نیک لوگ ہیں ،بہر حال یہ ضرورہے کہ یہ عہد صحا بہ میں نہ تھیں (لغات الحدیث،جلد3:ص:119 )یہ بات درست ہے کہ مو جو دہ ہیت پر جو مجا لس میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منعقد ہو تی ہیں یاجلوس کا شعار ہے ‘یہ جدید دور کی معروف اقدار ہیں اور اپنایاہے مثلاً؛اذان میں الصلوة خیرہ من النوم ، مصحف مبارک میں سورتوں کے نام ،آیات کی علامات ،اعراب لگانا وغیرہ۔ کتب احادیث ،بھی دوسری صدی ہجری میں یا اس کے بعد مرتب ہوئیں۔ قرآن وحدیث کو سمجھنے کے لئے تمام معاون علوم بعد میں ایجادہوئے اور کسی نظریے سے وابستگی کے اظہار کے لئے یا کسی غلط بات کے استر داداور اس پر احتجاج ریکارڈ کرانے کے لئے جلوس نکالنے کی روش قائم ہوئی۔تقریباًتمام مکاتب فکرنے دینی مقاصد کے لئے جلوس نکالنے ،مثلاً، شوکت اسلام ، نفاذ شریعت ،ناموس رسالت اور عظمت صحابہ وغیرہ کے نام پر جلوس نکالے جاتے رہے ہیں اور یہ تمام سر گرمیاں دین اور مقاصد دین سے تعلق رکھتی ہیں اور انہیں اس دور میں قبول عام مل چکا ہے۔اسی طرح دینی جماعتوں کا قیام تبلیغی اجتماعات کا انعقاد،افتتاح بخاری یا ختم بخاری کی تقریبات ، مدارس کے سالانہ جلسے یا پچاس سالہ اور ڈیڑھ سوسالہ جشن ، سیرت النبیﷺ کے جلسوں کا انعقاد، مقام حیرت ہے کہ اس طرح کی تمام سر گرمیوں پر کبھی کسی نے کوئی فتویٰ صادرنہیں کیا ، تو صرف محافل و جلوس میلاد النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ہدف تنقید بنانا یا بد عت قرار دینا انتہائی زیادتی ہے۔میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بد عت قرار دینے والوں کا کام آسان ہے کہ وہ فتویٰ دے کر اپنے فرض سے سبکدوش ہو جا تے ہیں۔میر ی خواہش ہے کہ ان مجا لس کو دینی تعلیم و تر بیت کا مو ثر ذر یعہ بنا نا چا ہئے اور محبت رسول اللہ کا ثمر اطا عت واتباع نبو ی کی صو رت میں ظا ہر ہو نا چا ہئے۔پیشہ ور واعظین ،ومو ضوع روایات بیان کر کے لو گوں کی عقیدت کو اپنی دنیا سنوارنے کے لئے ابھارتے ہیں اور اسے روحا نی سرورکاذریعہ بنا لیا گیا ہے خیر کا کام اس انداز سے ہو نا چا ہئے کہ اس کے مثبت نتا ئج برآمدہو ں،لاوڈاسپیکر کااستعمال بقدرِضروت اور مناسب وقت تک ہو،یہ نہ ہو کہ لا وڈاسپیکر کے شور سے لو گو ں میں بیزاری اور نفرت پیداکی جا ئے کسی اور کی غلط روِش کو اپنے لئے جوازنہ بنایا جائے۔ چراغا ں کے لئے بجلی کا استعمال قانون کے دائرے میں ہو نا چا ہئے ،نا جائز طریقے اختیا ر کر کے اسے سعادت یا با عث اجر سمجھنا غیر شرعی فعل ہے۔ آخر میں دعا گو ہوں کہ اللہ جل شانہ ہمیں وجہ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سچی اور حقیقی محبت عطا فرمائے۔۔
|
سازشیں اور اوچھے ہتھکنڈے عوام کے دلوں سے میاں نواز شریف کی محبت کو نہیں نکال سکتے ‘راجہ منیب ٹھاکر تارکین وطن بلا خوف وخطر آزاد کشمیر میں سرمایہ کاری کریں مسلم لیگ ن کی حکومت تارکین وطن کو بھرپور تخفظ فراہم کریگی سازشیں اور اوچھے ہتھکنڈے عوام کے دلوں سے میاں نواز شریف کی محبت کو نہیں نکال سکتے ‘راجہ منیب ٹھاکر تارکین وطن بلا خوف وخطر آزاد کشمیر میں سرمایہ کاری کریں مسلم لیگ ن کی حکومت تارکین وطن کو بھرپور تخفظ فراہم کریگی پیر 9 اکتوبر 2017 14:53 اسلام گڑھ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 اکتوبر2017ء) کوآرڈی نیٹر وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ منیب ٹھاکرنے کہا ہے کہ سازشیں اور اوچھے ہتھکنڈے عوام کے دلوں سے میاں نواز شریف کی محبت کو نہیں نکال سکتے ہیں۔آزاد کشمیر میں صدر مسلم لیگ ن میاں نواز شریف کے ویژن کے مطابق تعمیر وترقی کا عمل جاری ہے۔تارکین وطن بلا خوف وخطر آزاد کشمیر میں سرمایہ کاری کریں مسلم لیگ ن کی حکومت تارکین وطن کو بھرپور تخفظ فراہم کریگی۔ میاں نواز شریفمسلم لیگ (ن)تارکین
|
تحریک انصاف کے مراد سعید کا ستارہ کیوں گردش میں ہے؟ان کی ڈگری اصلی ہے یا جعلی ۔۔۔ ڈگری سکینڈل میں کس نے کیا کردار ادا کیا ؟ فیکٹ نے حقا ئق سے پردہ اٹھا دیا – Fact News مراد سعید کا پورے معاملے کوئی قصور نہیں ماسوائے یہ کہ وہ قومی اسمبلی کا رکن ہے اور اس نے اپنی ڈگری حاصل کرنے میں سستی کا مظاہرہ کیا۔ اپنے مخصوص انداز سے ٹی وی ٹاک شوز کو گرمانے والا شعلہ بیان مقرر، نوجوان لیڈر اور سوات سے 88 ہزار ووٹ حاصل کرنے والا پاکستان کا کم عمر ترین ممبر قومی اسمبلی مراد سعید کا ستارہ پچھلے کئی ماہ سے ڈگری اسکینڈل کی وجہ سے گردش میں ہے۔ صوبائی حکومت کی طرف سے سیکرٹری تعلیم اور سیکرٹری قانون کی سربراہی میں قائم کردہ کمیٹی کی رپورٹ مراد سعید کے حق میں آنے اور وائس چانسلر کو برطرف کرنے کی سفارشات آنے کے بعد ملک کے سارے بڑے اخبارات، ٹی وی چینلز، اینکرپرسنز اور سیاستدانوں اور میری طرح سوشل میڈیا پر ٹائم پاس کرنے والوں نے اپنی توپوں کا رخ مراد سعید اور پی ٹی آئی کی طرف موڑدیا ہے۔ ہر کوئی اپنے اپنے انداز اور استطاعت کے مطابق مراد سعید پر لعن طعن کرنے میں مصروف ہے۔ کوئی پی ٹی آئی آئی سے اپنا حساب چکانے کے لئے اس مشن میں اپنا مقدور بھر حصہ ڈال رہا ہے تو کوئی بغیر کسی تحقیق کے ہر سنی سنائی بات کو آگے منتقل کررہا ہے۔ تحریک انصاف کی صوبائی لیڈر شپ سمیت بہت سارے طالب علم جانتے ہیں کہ کسی زمانے میں، میں بھی اس تحریک سے وابستہ رہا ہوں اور اس کی لیڈرشپ کی اہلیت، وژن اور انداز سیاست کو بہت قریب سے دیکھا ہے اس لئے خود بھی انہیں ووٹ نہیں دیا اور دوستوں کو بھی انہیں ووٹ نہ دینے اور ان سے دور رہنے کے لئے قائل کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ میرے خیال میں یہ تحریک اپنے ٹریک سے اتر گئی ہے لیکن سیاسی اختلافات کے باوجود میں اس بات کی گواہی دینے کی جسارت کررہا ہوں کہ جس ڈگری کے معاملے میں مراد سعید کو گھسیٹا گیا، اس میں اس کا کوئی قصور نہیں ماسوائے یہ کہ وہ قومی اسمبلی کا رکن ہے اور اس نے اپنی ڈگری حاصل کرنے میں سستی کا مظاہرہ کیا۔ پچھلے تین مہینوں سے میں نے اس کیس میں ذاتی دلچسپی لی ہے اور اس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے اساتذہ کے انٹرویو کئے۔ تمام دستاویزات تک رسائی حاصل کی۔ ڈیپارٹمنٹ کے کلرک سے لیکر اس کے تین پی ایچ ڈی پروفیسرز اور خاتون ٹیچر جنہوں نے اس کے لئے میک اپ امتحان کا بندوبست کیا، مراد سعید کے کیس کو سپورٹ کررہے ہیں۔ میں نے مراد سعید سے بھی اس معاملے میں تفصیلی بات کی اور بالآخر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس کیس کو سیاسی مقاصد کے لئے حد سے زیادہ اچھالا گیا۔ اس سارے کیس کو سمجھنے کے لئے میں مختصر طور پر آپ کے سامنے چند حقائق رکھنا چاہتا ہوں ۔ مراد سعید 2005 سے 2009 تک پشاور یونیورسٹی میں انوائرنمنٹل سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے طالب علم رہے۔ ایف ایس سی کے بعد پشاور یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیاتی سائنسز کے 4 سالہ پروگرام بی ایس آنرز میں داخلہ لیا، یونیورسٹی میں 4 سال گزارے، 40 مضامین پڑھے، پشاور یونیورسٹی کے بلڈ ڈونرز سوسائٹی کے صدر رہے، خیبر لٹریری کلب کے صدر رہے، سوات اسٹوڈنٹس سوسائٹی کے صدر رہے، پشاور یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ علامہ اقبال شیلڈ جیت کر پورے ملک میں تقریری مقابلوں میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ملک کی تقریباً ساری بڑی یونیورسٹیوں میں منعقدہ تقریری اور شاعری کے مقابلوں میں پشاور یونیورسٹی کی نمائندگی کی۔ پشاور یونیورسٹی کے اسکالرشپ پر جنوبی کوریا اور ہندوستان میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ مراد سعید نے جب یونیورسٹی میں 4 سال گزارے اور عملی سیاست میں قدم رکھنے کے لئے اسلام آباد روانہ ہوئے تو 2009 میں یونیورسٹی چھوڑتے وقت ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کورس کی تکمیل کا سرٹیفیکٹ جاری کیا۔ 2013 میں ڈیپارٹمنٹ کے ایک استاد ڈاکٹر نفیس نے وائس چانسلر کو اپنی ایک کولیگ شہلا، جو ڈیپارٹمنٹ میں بی ایس امتحانات کی ڈیپارٹمنٹل کوارڈینیٹر بھی تھیں، کے خلاف خط لکھا جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ انہوں نے مراد سعید کے لئے امتحان کا بندوبست کیا ہے جبکہ وہ میرے کلاس سے غیر حاضر رہے اور میرے مضامین کا امتحان نہیں دیا۔ مس شہلا نے بھی اس خط کے جواب میں وائس چانسلر کو ایک خط لکھا جس میں اپنے اوپر اٹھنے والے سارے اعتراضات کو بے بنیاد قرار دیا اور موقف اختیارکیا کہ مراد سعید کو تو 2011 میں ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ڈی۔ ایم۔ سی جاری کی گئی ہے تو 2013 میں امتحان لینے کی کیا ضرورت ہے؟ وائس چانسلر یا رجسٹرار نے کسی بھی خط کا جواب دینا شاید اس لئے مناسب نہ سمجھا کیونکہ اس وقت مراد سعید قومی اسمبلی کا رکن نہیں بلکہ ایک عام طالب علم تھا۔ اگر اس وقت وائس چانسلر اور یونیورسٹی انتظامیہ معمولی سی پھرتی دکھاتے تو شاید معاملات اس نہج تک نہ پہنچتے۔ 2013 انتخابات میں عمران خان نے مراد سعید کے پروفائل اور پارٹی میں کردار کو دیکھ کر اسے قومی اسمبلی کا ٹکٹ دے دیا۔ اگرچہ عام انتخابات میں تعلیم کی شرط نہیں رکھی گئی تھی لیکن پھر بھی مراد سعید نے الیکشن کمیشن میں اپنی تعلیمی قابلیت ایف ایس سی ظاہر کی۔ مارچ 2015 میں مراد سعید نئی چیئر پرسن ڈاکٹر شاہدہ ذاکر کو اپنی ڈگری کے حصول میں مدد کے لئے درخواست لکھی تو انہوں نے بی ایس امتحانات کی کوآرڈینیٹر مس شہلا کو ہدایت کی کہ اگر ممکن ہو تو مراد سعید کے جن دو پرچوں پراساتذہ کو اعتراض تھا، اس کے لئے میک اپ امتحان کا انتظام کیا جائے۔ ڈاکٹر نفیس نے اور دوسرے پروفیسر نے مراد سعید کے لئے پرچے بنائے۔ مراد سعید نے دونوں پرچے حل کئے۔ دونوں اساتذہ نے چیک کئے اور رزلٹ شعبہ امتحانات کو ارسال کیا تاکہ اس کے لئے آفیشل ڈی۔ ایم۔ سی تیار کی جاسکے۔ لیکن اس دوران ایک فیڈریشن نے مراد سعید کے امتحان کے خلاف جلوس نکالا، اور بات میڈیا تک پہنچی۔ میڈیا نے وائس چانسلر سے رابطہ کیا۔ وائس چانسلر نے تمام کارروائی روکنے کا حکم دیا اور معاملے کی انکوائری کا حکم دیا۔ میڈیا کو ایشو مل گیا اور مخالف سیاسی پارٹیوں کو سیاست کا موقع اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ یونیورسٹی کی وائس چانسلر نے میڈیا اور سیاسی دباؤ میں آکر انکوائری کمیٹی تشکیل دی اور مراد سعید کو حاضر ہونے کو کہا گیا۔ لیکن مراد سعید کمیٹی کے سامنے حاضر ہونے کے بجائے سیدھا عدالت پہنچ گئے۔ یونیورسٹی کی انکوائری کمیٹی نے یک طرفہ فیصلہ سناتے وقت اس قدر جلدبازی سے کام لیا کہ حقائق ہی مسخ کرڈالے۔ اِس کا ثبوت یہ ہے کہ معاملہ تھا 2 پرچوں کا لیکن کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں 3 پرچے لکھ دیئے۔ میڈیا میں یہ تاثر دیا گیا کہ گویا مراد سعید کوئی پہلا طالب علم تھا جس کو رکن قومی اسمبلی ہونے کے ناطے کوئی خاص رعایت دی گئی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ متعلقہ ڈیپارٹمنٹ وقتاً فوقتاً اپنے طالب علموں کے لئے میک اپ امتحانات منعقد کراتا آرہا ہے اور شعبہ ماحولیات میں یہ سارا ریکارڈ موجود ہے، جس کے مطابق ابھی تک 200 سے زائد طلباء کے لئے میک اپ امتحانات کا انتظام کیا گیا ہے۔ لیکن کسی بھی امتحان پر نہ تو کوئی اعتراض کیا گیا اور نہ ہی کوئی انکوائری کمیٹی بنی۔ البتہ مراد سعید کے معاملے کو سیاسی رنگ دیا گیا اور ابھی تک اس کا میڈیا ٹرائل جاری ہے۔ اس سارے پس منظر، پروپیگنڈا، میڈیا ٹرائل اور سیاسی بیان بازی میں کسی نے اس جانب توجہ ہی نہیں دی کہ جس معاملے میں مراد سعید کو اتنا گھسیٹا گیا اور اس پر کیچڑ اچھالا گیا۔ آپ اس سارے معاملے کو اس تناظر میں دیکھئے تو شاید آپ کو اس کیس کی نوعیت سمجھ میں آجائے گی۔ مراد سعید کو کورس کمپلیشن سرٹیفیکیٹ کس نے دیا؟ ڈیپارٹمنٹ یعنی یونیورسٹی نے۔ اسے 2011 میں ان آفیشل ڈی۔ ایم۔ سی کس نے دی؟ ڈیپارٹمنٹ یعنی یونیورسٹی نے۔ اس کے امتحان اور ڈی۔ ایم۔ سی پر اعتراض کس نے اٹھائے؟ کس نے مراد سعید کو مارچ 2015 میں دوبارہ امتحان دینے کا کہا؟ ڈیپارٹمنٹ یعنی یونیورسٹی نے۔ کس نے اس کے لئے امتحان کا بندوبست کیا؟ ڈیپارٹمنٹ یعنی یونیورسٹی نے۔ اس کے لئے پرچے کس نے بنائے اور کس نے چیک کئے؟ ڈیپارٹمنٹ یعنی یونیورسٹی نے۔ کس نے سیاسی دباو میں آکر کمیٹی بنائی اور اس امتحان کومنسوخ کیا؟ اسی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے۔ کس نے ٹی وی پر آکر اپنے ہی امتحانی عمل کو متنازعہ بنایا؟ ڈیپارٹمنٹ یعنی اسی یونیورسٹی نے۔ بہرحال اس ساری کچھڑی میں اگر کوئی بات میرے لئے باعث اطمینان ہے تو وہ یہ کہ اس سارے مسئلے سے حکومت کی توجہ صوبے کی یونیورسٹیوں کی طرف مبذول ہوگی جہاں بہت ساری اصلاحات کی ضرورت ہے۔ عمران خان اور تو کوئی وعدہ ایفاء نہ کرسکے لیکن اگر وہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بنیادی اصلاحات کرنے میں کامیاب ہوئے تو نہ صرف ملک میں حقیقی تبدیلی آئے گی بلکہ آئندہ نسلوں پر بھی اس کا احسان رہے گا اور ویسے بھی تبدیلی آنے کا بتایا نہیں جاتا، عمل سے نظر آتا ہے۔ برطانیہ نے الطاف حسین کو سزا دینے کی یقین دہانی کروا دی ،عمران فاروق کی اہلیہ قتل میں ملوث،سکارٹ لینڈ سوال کے جواب کیلئے دوبارہ متحرک، کئی راہنما ئوں کےاعترافی بیان بھی سامنے آنے کو تیار،سنسنی خیز انکشافاتAug 27th, 20151 comments ٹی بریکAug 27th, 20151 comments ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ ،ذکاء اشرف اوراہل خانہ کادورہ سری لنکا دس کروڑ میں پڑاAug 27th, 20151 comments
|
کاروباری خبریں ایک چمڑے کے بیگ بنانے کے کس طرح ایک چمڑے کے بیگ بنانے کے طور پر یہ مشکل لگ سکتا ہے نہیں ہے. چرمی بیگ یا پرس پائیدار ہیں اور جتنی جلدی دیگر کپڑے کرتے ہو کے طور پر باہر نہیں پہنتی. اس کے چمڑے بیگ ڈیزائن، فیشن اور بنانے کے لئے آسان ہے کہ دونوں ایک چھوٹے چمڑے کے پرس ہے. ہدایات 1. تین برابر حصوں میں کپڑا کاٹ. فرقہ ...مزید پڑھیں » سے frameless، بیرونی فریم، فریم، اور bodypack: چار اقسام میں سے ایک میں جنرل موسم خزاں میں ایک سفری بیگ. ایک پیکٹ فریم، جب موجودہ، کولہوں کو ایک کرنے کے وزن کا زیادہ منتقلی کی طرف سے، پیک کی حمایت اور زیادہ مناسب طریقے سے جسم کے پار اس کے مندرجات کے وزن تقسیم کرنے کے کام کرتا ہے ...مزید پڑھیں » ایک شام بیگ کیا ہیں؟ ایک شام بیگ رسمی واقعات اور جماعتوں میں شام کے دوران استعمال کیا جا کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے جس میں ایک ہینڈبیگ ہے. بیگ کی اس قسم کی نمایاں خصوصیت اس کے سائز ہے: سب سے زیادہ صرف چند اشیاء کے انعقاد کی صلاحیت رکھتے ہیں. سب سے زیادہ ڈپارٹمنٹ اسٹورز مشہور طرف تخلیقات سمیت شام بیگ، کی ایک قسم کی فروخت ...مزید پڑھیں » کس طرح شمسی توانائی سے چلنے سفری بیگ کام؟ دنیا میں ان دنوں بہت تیزی سے چلتا ہے، اور اس کے نتیجے کے طور پر، جدید انسانی ایک جگہ سے دوسرے میں جانے پر مسلسل ہے. سیل فون، لیپ ٹاپ اور پرسنل ڈیجیٹل اسسٹنٹ (PDA) کی آمد ہمیں بھی زیادہ موبائل بنا دیا ہے. ٹیکنالوجی کا بہت بہت سے لوگ اب thei لے سکتا ہے کہ پیش قدمی کی ہے ...مزید پڑھیں »
|
گوا کے ناریل توڑنے والے Things We Do • جنوری 3, 2017 ان کی تعداد کم ہو رہی ہے، لیکن ان کے کام کی مانگ اب بھی زیادہ ہے جوقم فرنانڈیز کا موبائل لگاتار بجتا رہتا ہے، جب وہ دوپہر کا کھانا کھانے کے لیے گھر پر ہوتے ہیں۔ وہ کام کی جگہ اپنا فون ساتھ لے کر نہیں جاتے، اور صارفین کو پتہ چلا ہے کہ ان تک پہنچنے کا سب سے صحیح وقت یہی ہوتا ہے۔ شمالی گوا کے پرّہ گاؤں کے ۵۳ سالہ اس شخص کی کافی مانگ ہے، جو ناریل کاٹنے کا کام کرتے ہیں۔ اس ریاست میں ۲۵ ہزار ہیکٹیئر زمین پر ناریل کی کھیتی ہوتی ہے، لیکن اس کےد رخت سے ناریل توڑنے والوں کی کافی کمی ہے۔ اس کی وجہ سے فرنانڈیز جیسے پرانے لوگ ہفتہ بھر اس کام میں مصروف رہتے ہیں۔ وہ روزانہ اپنے گھر سے ۱۲ کلومیٹر دور واقع ناریل کے باغ میں صبح اور دوپہر کو سائیکل سے جاتے ہیں، اور ایک دن میں تقریباً ۵۰ درختوں پر چڑھتے ہیں۔ ان کے کام کرنے کے دنوں کی تعداد ہر ماہ بدلتی رہتی ہے۔ مانسون کے موسم میں (جون سے ستمبر تک) وہ درختوں پر تبھی چڑھتے ہیں، جب سورج کی تپش نے شاخ کو پوری طرح خشک کردیا ہو۔ سال کے بقیہ دن، فرنانڈیز ہر روز درختوں پر چڑھتے ہیں، جیسا کہ گوا کے سبھی ناریل کاٹنے والے کرتے ہیں۔ وہ ایک درخت پر چڑھنے کا ۵۰ روپیہ لیتے ہیں؛ جس سے روزانہ کی آمدنی ۲،۵۰۰ روپے تک ہو سکتی ہے۔ فرنانڈیز چڑھنے سے پہلے ہر درخت کا گہرائی سے معائنہ کرتے ہیں۔ ناریل کے پھول کو ناریل کا پھل بننے میں تقریباً چھ مہینے لگتے ہیں۔ عام رائے یہی ہوتی ہے کہ وہ اسی درخت پر چڑھیں، جس کے کم از کم پانچ ناریل کاٹنے کے لیے تیار ہو چکے ہیں، اس سے ایک بھی کم کا مطلب ہے مالی خسارہ۔ جوقم فرنانڈیز مانسون کے موسم سے فائدہ اٹھاتے ہیں جب انھیں ناریل کے دو چار درختوں پر ہی چڑھنا پڑتا ہے گرمیوں میں، ناریل جلدی خشک ہو جاتے ہیں۔ گرمی فرنانڈیز کی توانائی کو بھی جلدی ختم کر دیتی ہے۔ ناریل کے باغات میں وہ ایک مہینہ میں ایک ہی بار جاتے ہیں اور ایک دن میں وہ جتنے درخت چڑھ سکتے ہیں، ان کی تعداد گھٹ کر ۳۰ ہو جاتی ہے۔ گوا کی حکومت نے ۲۰۱۳ میں، نوجوان مردوں کو ناریل توڑنے کی ٹریننگ دینے کے لیے ایک ششماہی پروگرام شروع کیا۔ ریاستی حکومت نے اس کے لیے کامیاب امیدواروں کا انتخاب کیا، اور کسان اس قسم کی خدمات حاصل کرنے کے لیے حکومت سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ ناریل توڑنے والے اس قسم کے ۲۰ لوگوں کو سرکار نے ۱۵ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر رکھا اور ساتھ ہی انھیں دیگر سہولیات دینے کے علاوہ ان کا بیمہ کرایا اور صحت سے متعلق سہولیات فراہم کیں۔ سرکاری اہل کاروں کا کہنا ہے کہ ناریل توڑنے والوں کی مانگ اتنی زیادہ ہے کہ وہ اتنی تعداد میں تربیت یافتہ مردوں کا انتظام نہیں کر پا رہے ہیں۔ ناریل کی موٹی رسیوں کا ایک گُچھّا اس کے درخت پر چڑھنے کا واحد ذریعہ ہے یہ چنوتیوں بھرا وقت ہے۔ ناریل توڑنے والوں کی شدید کمی کے باعث، کسان ناریل کی کھیتی کرنے سے لگاتار پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ ریاستی حکومت اس سے نمٹنے کے لیے میکینکل طریقے سے ناریل کی کٹائی کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ یہ اسٹیل کی پائپوں سے بنا ایک آلہ ہے، جو ناریل کے درخت پر چڑھنے میں مدد کرتا ہے۔ اس میں حفاظت کے لیے ایک رسی بھی ہوتی ہے، جو چڑھنے والے کی کمر اور درخت کی شاخ سے جڑی ہوتی ہے۔ لیکن، پرانے لوگ اس سے بہت زیادہ متاثر نہیں ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جتنی دیر میں یہ مشین ایک درخت پر چڑھنے میں مدد کرتی ہے، اتنی دیر میں وہ چار درختوں پر چڑھ سکتے ہیں۔ کلہاڑی ناریل کاٹنے والوں کا سب سے بڑا اوزار ہوتا ہے۔ فرنانڈیز نے اس کے لیے لکڑی کا ایک دستہ بنایا ہے گوا میں، ناریل توڑنے کا ہنر روایتی طور پر باپ سے بیٹے تک منتقل ہوتا آیا ہے۔ دسویں کلاس کے بعد، فرنانڈیز کے بیٹے نے ایک ٹیکنیکل کورس کیا اور سروسز انڈسٹری میں کام کیا۔ وہ کویت جاکر کام کرنا چاہتا تھا، جہاں پر اس کے چچا مقیم ہیں، اور اپنی فیملی کے روایتی پیشہ میں اس کی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ کئی برسوں تک اسی جدوجہد میں لگے رہنے کے بعد جب اسے کامیابی نہیں ملی، تو اس نے آخرکار ناریل توڑنے کے مشکل لیکن نفع بخش کام کو کرنا شروع کر دیا۔ لیکن گوا میں ناریل توڑنے والے کو سماج میں نیچی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اور اس سے کوئی اپنی بیٹی کی شادی بھی نہیں کرنا چاہتا۔ آخرکار اس نے ایک پانی والے جہاز میں کریو ممبر کے طور پر نوکری جوائن کر لی۔ شمالی گوا کے ساحلی کالنگوٹ گاؤں کے ڈیوڈ پریرا کی کہانی بھی اسی سے ملتی جلتی ہے۔ پانچ سال قبل ۵۵ سال کے پریرا ایک ناریل کے درخت سے نیچے گر گئے تھے، جس کی وجہ سے ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی، اس لیے اب وہ ایک دن میں صرف ۲۰ درختوں پر ہی چڑھائی کرتے ہیں۔ ڈیوڈ پریرا ۳۰ فٹ کے درخت پر چڑھتے وقت کہاڑی کو اپنے ہاتھ میں ہی پکڑ کر لے جانا پسند کرتے ہیں وہ اپنی خدمات دینے کے بدلے اجرت کے طور پر ناریل لینا ہی پسند کرتے ہیں۔ ان کی بیوی ان نارلیوں کو گھر سے ۹ کلومیٹر دور ماپوسا کے ہفتہ وار بازار میں لے جاکر بیچتی ہیں۔ سائز اور موسمی مانگ کے حساب سے ناریل ۷ روپے سے لے کر ۱۱ روپے تک میں بیچے جاتے ہیں۔ پریرا کا لڑکا پانی کی جہاز پر دوسرے ملک میں کام کرتا ہے۔ ’’میرا بیٹا کہتا ہے کہ اب مجھے اس کام کو کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ وہ اب وہ خود نوکری کر رہا ہے۔ لیکن اگر میں کام چھوڑ کر گھر پر بیٹھ جاؤں تو میرا جسم سخت ہو جائے گا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ حالانکہ وہ اب بھی ناریل کے درختوں پر چڑھتے ہیں، لیکن انھیں اس بات کا افسوس ہے کہ ان کے والد میں بچپن میں انھیں جو ہنر سکھایا تھا، وہ انھیں اب یاد نہیں رہا۔ ’’مجھے اب یاد نہیں رہا کہ ناریل کے درختوں پر چڑھنے کے لیے رسیوں میں گانٹھ کیسے باندھی جاتی ہے۔ اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ ناریل کے درختوں سے تاڑی کیسے نکالی جاتی ہے، تو یہ بہت اچھا ہوتا کیوں کہ کالنگوٹ میں اب تاڑی نکالنے والا کوئی نہیں ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ کلہاڑی پکے ہوئے ناریل کے گچھوں پر لگتی ہے اگر پورا گچھا پکا نہ ہو، تو اسے توڑنے والا پکے ہوئے ناریل کو توڑنے کے لیے اپنے ہاتھوں کا استعمال کرتا ہے پانڈو گنڈو نائک ناریل کے باغات میں اکثر پریرا کو اپنے ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ کرناٹک کے بیلگام ضلع کے رہنے والے، نائک گزشتہ ۲۰ برسوں سے درختوں پر چڑھ رہے ہیں۔ وہ پہلی بار جب گوا آئے تھے، تو وہ روزانہ کے مزدور کے طور پر کام کرتے تھے، گھاس کاٹتے تھے اور درختوں کی شاخوں کی چھنٹائی کیا کرتے تھے۔ پھر انھوں نے ناریل توڑنے کے کام کو کرنے کے بارے میں سوچا اور اسے ہنر کو مقامی لوگوں کو دیکھ کر سیکھا۔ نائک نے بیلگام کے پانچ دیگر لوگوں کو بھی اس پیشہ میں داخل ہونے میں مدد کی، لیکن اب مہاجر کامگار بھی ناریل توڑنا نہیں چاہتے۔ ’’وہ ہوٹلوں میں کام کرنا چاہتے ہیں، کیوں کہ اِس کام میں کافی محنت لگتی ہے اور ساتھ ہی یہ خطرناک بھی ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ گوا میں ایک درخت پر ہر سال اوسطاً ۸۰ سے ۱۰۰ ناریل تک آتے ہیں عورتیں ناریل اکٹھا کرتی ہیں اور پھر انھیں کلکشن پوائنٹ تک لے جاتی ہیں اب زیادہ توڑنے والے نقد میں اجرت لینا چاہتے ہیں؛ پہلے انھیں اجرت کے طور پر ناریل ہی دیے جاتے تھے فرنانڈیز کسانوں کی طرف سے ناریل بھی بیچتے ہیں۔ وہ گھر پر اس پھل کو صاف کرتے ہیں اور ان عورتوں کو بیچ دیتے ہیں جو ماپوسا میں ہر جمعہ کے دن اسے تھوک میں بیچتی ہیں۔ اس کی گھاس کو جلانے کے لیے بھی بیچا جاتا ہے۔ تاہم، اب اسے خریدنے والے بہت ہی قلیل تعداد میں بچ گئے ہیں۔ گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ گھروں، اسکولوں، مقامی بیکری اور گاؤوں کے دیگر باورچی خانوں نے گیس سے جلنے والے اسٹوو کا استعمال شروع کر دیا۔ لیکن فرنانڈیز کے پاس اب بھی کچھ گاہک اور چھوٹی صنعتیں ہیں، جو ناریل کی گھاس کو جلانے میں استعمال کرتی ہیں۔ ان کے گھر کے باہر ناریل کی گھاس کا ایک انبار لگا ہوا ہے، جو پلاسٹک کی موٹی چادر سے اچھی طرح ڈھکا ہوا، تاکہ وہ بارش میں بھیگ نہ جائے۔ یہ سال خاص طور سے بیچنے کے لحاظ سے برا تھا؛ یہ ہر طرح سے نقصان والا موسم تھا۔ مانسون کے موسم میں فرنانڈیز درختوں پر زیادہ نہیں چڑھتے، کیوں کہ کائی جم جانے کی وجہ سے پیر پھسلتا ہے۔ اس کی جگہ وہ آس پاس کے تالابوں اور ندی نالوں میں مچھلی پکڑنے کا کام کرتے ہیں۔ ’’میں پیدائشی طور پر اس کام کو جانتا ہوں،‘‘ وہ جھجھکتے ہوئے کہتے ہیں۔ سونیا فلنٹو ممبئی میں مقیم میڈیا پروفیشنل ہیں، جو پروڈکشن اور ہدایت کاری کا کام کرتی ہیں۔ انھیں ماحولیاتی موضوعات میں کافی دلچسپی ہے۔ @soniafilinto https://www.soniafilinto.wordpress.com/ Sonia Filinto is a Mumbai-based media professional. Other stories by Sonia Filinto گوا کے بھدیل اب گوا بھی ملک گیر چیتوں کی گنتی میں مدد کر سکتا ہے؟ ’ریاست نے ہماری امیدیں صرف توڑنے کے لیے بڑھائیں‘ Jawala Zute, Parundi
|
بارش سے متاثرہ دکانداروں کے نقصانات کا فوری ازالہ کیا بارش سے متاثرہ دکانداروں کے نقصانات کا فوری ازالہ کیا جائے‘ مزمل صابری Jul 12, 2015 1:49 AM, July 12, 2015 اسلام آباد ( کامرس ڈیسک) اسلام آباد کے بارش سے متاثرہ تاجروں کے ایک وفد نے آئی اینڈ ٹی سنٹر، جی ایٹ ون کی ٹریڈرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری عبدالغفار چوہدری کی قیادت میں اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا اور میٹرو بس پراجیکٹ کمیٹی کے چیئرمین جناب حنیف عباسی سے مطالبہ کیا کہ وہ دکانوں میں پانی گھسنے کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرائیں ۔ انہوں نے کہا کہ پشاور موڑ میٹرو بس سٹیشن کی تعمیر کے دوران جی ایٹ ون مارکیٹ کے نیچے سے گزرنے والا پانی کا نالہ بند ہو گیا تھا جس وجہ سے حالیہ بارش کے دوران مارکیٹ میں بہت پانی جمع ہو گیا جو دکانوں میں گھس گیا اور جس نے بہت سا تجارتی سامان بتاہ کر دیا۔ اس بنا پر انہیں بہت کاروباری نقصان ہوا ۔ تاجروں کے وفد سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر مزمل حسین صابری نے میٹرو بس پراجیکٹ کمیٹی کے چیئرمین حنیف عباسی سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک کمیٹی تشکیل دیں جو متاثرہ تاجروں کے نقصانات کا جائزہ لے تا کہ حکومت ان کے نقصانات کا مناسب ازالہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں کی وجہ سے پشاور موڑ، سنٹارس، سیونتھ ایونیو، کچہری اور شہید ملت سمیت میٹرو بس کے بہت سے سٹیشنوں میں پانی گھس گیا جس وجہ سے مسافروں کو بھی پریشانی کا سامنا رہا۔ انہوں نے کہا کہ میٹرو بس منصوبے پر اربوں روپے لاگت آئی لیکن پانی کی نکاسی کا کوئی بہتر بندوبست نہیں کیا گیا جو بارشوں کی وجہ سے ظاہر ہو گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت اس اہم مسئلے کی طرف فوری توجہ دے اور تمام سٹیشنوں پر پانی کی نکاسی کے بہتر انتظامات یقینی بنائے تاکہ دکانداروں کواس بنا پا مزید نقصانات سے بچایا جا سکے اور عوام کو بھی کسی ناگہانی حادثے سے بچایا جا سکے۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایک وفد نے بھی متاثرہ مارکیٹ کا دورہ کیا اور متاثرہ تاجروں کے اظہار ہمدری کیا۔ وفد میں زبیر احمد ملک، ظفر بختاوری، سعید بھٹی ، نوید ملک، باسر داؤد، نثار مرزا اور بابر چوہدری شامل تھے۔
|
ملتان کے نشتر ہسپتال میں کروناوائرس سے متاثرہ مریض کے زیرعلاج ہونے کے معاملے پر نشتر ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر شاہد بخاری کا بیان بھی آگیا۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا چینی مریض میں کوروناوائرس سے متعلق صرف شک ہے ۔ مریض میں کوروناوائرس سے متعلق ابھی تک کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔انہوں نے کہاخون کے نمونے ٹیسٹ کیلئے اسلام آبادبھیج دیئے ہیں۔ڈاکٹر شاہد کے مطا بق چینی باشندہ کچھ روز قبل چین سے پاکستان پہنچا۔ قبل ازیں جیو اور اے آر وائی نیوز سمیت مختلف ذرائع ابلاغ نے شبہ ظاہر کیا تھا کہ تین روز قبل چین سے واپس آنے والے ایک چالیس سالہ چینی شہر کو اس مرض کے شبے میں ہسپتال میں لایا گیا ہے جہاں وہ آئسولیشن میں زیرعلاج ہیں۔کچھ اداروں نے اسے پاکستان میں کرونا وائرس کا پہلا کیس بھی قرار دیا تاہم وزارت صحت نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاحال کرونا کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔ واضح رہے کہ چین میں کرونا وائرس کی انتہائی خطرناک وبا پھیل گئی ہے جس کی وجہ سے ا ب تک پچیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔انتظامیہ خطرناک وائرس کورونا کی وبا کو پھیلاو¿ سے روکنے کے لیے شدید جدوجہد کر رہی ہے۔ یہ سب ایک ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب لاکھوں افراد نئے چینی سال کی تقریبات کی تیاریاں کر رہے ہیں۔بیجنگ اور ہانگ کانگ میں حکومت نے نئے سال کی بڑی تقریبات کو وائرس سے پھیلنے والے خطرے کے پیش نظر منسوخ کر دیا ہے تاکہ عوام آپس میں گھل مل نہ سکیں جس سے وائرس کے پھیلاو¿ کا خدشہ ہے۔ ووہان شہر اور ہوبائی صوبہ جہاں سب سے زیادہ مریضوں کی تشخیص ہوئی ہے وہاں انتظامیہ نے سخت اقدامات اٹھائے ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔ جمعے کو چینی حکام نے تصدیق کی ہے کہ اب تک 25 افراد وائرس کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 830 افراد میں مرض کی تشخیص ہوئی ہے۔ان مریضوں میں سے 177 کی حلات تشویشناک ہے جوکہ 34 علاج کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیے گئے ہیں۔ اوپر والا کپتان کے ساتھ ہے، خان صاحب اس وقت طاقت اور قسمت کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں،ساری پریشانیاں ختم، ہر مسئلہ اوکے،... ماشااللہ! پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ حافظ تیار کرنے والا... Editorial Team - February 22, 2020 پاکستان کادنیا میں سب سے زیادہ حفاظ تیار کرنے کا اعزاز برقرار ہے، وفاق المدارس کے زیر اہتمام حالیہ تعلیمی سال... اوپر والا کپتان کے ساتھ ہے، خان صاحب اس وقت طاقت... پاک سوزوکی نے 200 لوگوں کو عمرہ پر بھیجنے کا اعلان... ’اس جگہ کا دروازہ چھوٹا ہے جس کی وجہ سے ٹرمپ... آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کوامریکی وزیر دفاع کا ٹیلی فون، جنگ کے حوالے سے اہم فیصلہ Editorial Team - January 8, 2020 آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کوامریکی وزیر دفاع کا ٹیلی فون ، امریکہ جنگ نہیں چاہتا ،ضرورت پڑ ی... ”میں کروں تو سالا کریکٹر ڈھیلا ہے! “ ہربھجن سنگھ کی عمران خان پر تنقید، وینا ملک نے لاجواب کردیا اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کی تقریر نے جہاں پاکستانیوں کے دل جیت لیے وہیں... ”میری خواہش ہے کہ شاداب خان کو قومی ٹیم کی قیادت کرتا دیکھوں“ سعید اجمل ایسا کیوں چاہتے ہیں؟ Editorial Team - February 12, 2020 پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی تاریخ کی سب سے کامیاب فرنچائز اسلام آباد یونائیٹڈ ایک مرتبہ پھر ٹائٹل... Latest Updates1179
|
پاکستان کی آدھی شوگر انڈسٹری کے مالک حکومتی وزیر، چینی پاکستان کی آدھی شوگر انڈسٹری کے مالک حکومتی وزیر، چینی کی قیمت میں مسلسل ... Jan 22, 2020 | 16:06:PM اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان کے کئی بڑے شہرو ں میں چینی کی فی کلوگرام قیمت 80روپے تک جاپہنچی ہے جبکہ اس میں مزید اضافے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جارہاہے ،حکومت میں بیٹھے افراد ہی ملک کی تقریباً آدھی شوگرانڈسٹری کے مالکان ہیں،تاحال چینی کی قیمت میں اضافے پر تاحال حکومتی سطح پر کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا اور نہ ہی ذمہ داران کا کوئی تعین ہوسکا کہ کس نے کتنی رقم کھائی ؟ حکومت ہر مافیا سے لڑنے کے اعلانات پر ڈٹی ہے لیکن ایک کے بعد ایک مافیا نے عوام کیلئے جینا مشکل کررکھاہے، آٹے کے بحران کے بعد چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے اور نجی ٹی وی چینل کی تحقیقات کے مطابق چینی کی انڈسٹری میں بڑا حصہ تحریک انصاف کے رہنما اوروزیراعظم عمران خان کے انتہائی قابل بھروسہ دوست جہانگیر خان ترین کا ہے ، جن کا شیئرتقریباً بائیس فیصد حصہ ہے، وہ 6ملوں کے مالک ہیں،خیبرپختونخوا کی تمام ملوں سے یہ ملیں بڑی ہیں۔ان کے بعد دوسرے نمبر پر شوگر انڈسٹری کے تقریباً 12فیصد حصے کے مالک وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی وترقی خسرو بختیار ہیں، این اے 131سے عمران خان کی چھوڑی گئی نشست سے الیکشن لڑنے والے ہمایوں اختر خان کی بھی 3شوگر ملیں ہیں اور وہ شوگر انڈسٹری کے تقریباً10فیصد حصے کے مالک ہیں، اسی طرح فیصل مختار، جہانگیر ترین کے کزن شمیم خان کی بھی چار شوگر ملز ہیں، مجموعی طورپر حکومت میں بالواسطہ یا بلاواسطہ اثر رکھنے والے افراد شوگر انڈسٹری کے 45فیصد حصے کے مالک ہیں ۔ سینئر صحافی زاہد گشکوری نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ حکومت کو 6ماہ سے قیمتوں میں اضافے کا پتہ تھا،اس وقت کے سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین اسد عمر کی ہدایت پر کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے اپنی رپورٹ میں بتادیا تھاکہ چینی کی قیمتوں میں بے ضابطگیاں دکھائی دیتی ہیں، اس رپورٹ کی روشنی میں نیشنل مانیٹرنگ پرائس کنٹرول کمیٹی کو ہدایت کی گئی کہ دیکھاجائے کہ کس طرح اتنی قیمتیں بڑھی ہیں، بے ضابطگیاں کیا ہیں؟ یہ کمیٹی وزارت خزانہ کے ماتحت کام کرتی ہیں،اس کمیٹی نے سی سی پی کو دوبارہ لکھا گیا کہ جب قیمتیں اتنی بڑھ چکی ہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟آپ ماضی کے تجربات کی روشنی میں پروڈکشن کاسٹ بتائیں، اس کے بعد سی سی پی نے 2009ءکے بحران کی تحقیقات کی روشنی میں اندازہ لگایا ، جس کی رپورٹ متعلقہ وزارتوں اور وزیراعظم کو بھی دی گئی ، اس رپورٹ کے مطابق چینی کی قیمت 52روپے فی کلوگرام کے لگ بھگ بنتی ہے لیکن مارکیٹ میں اس کی قیمت 80روپے ہے ۔ جب وفاقی وزیر اور شوگر ملز کے مالک خسروبختیار سے چینی کی قیمت میں اضافے کے بارے میں سوال کیاگیا تو ان کا جواب تھا کہ یہ طلب اور رسد کامعاملہ ہے ، ہول سیل اور ریٹیل قیمت میں بہت فرق ہے۔ماہر اجناس شمس الاسلام خان نے کہا کہ پاکستان کی معیشت مکس اکنامی ہے ،اس میں گٹھ جوڑ بڑے پروان چڑھتے ہیں ہم کوئی بھی قدم لیتے ہیں اس سے ان لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے، ان کے روابط ہوتے ہیں البتہ چینی میں اتنی زیادہ قلت نہیں ۔ ادھر کچھ رپورٹس ایسی بھی ہیں کہ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے وفاقی وزارت تجارت اور شوگر مشاورتی بورڈ کو چینی کی پیداواری لاگت کی رپورٹ دیدی ہے جس کے مطابق ملک کی 89 شوگر ملز کی موجودہ پیداواری لاگت 83 روپے فی کلو تک ہوگئی ہے۔ کسانوں سے شوگر ملیں 240 سے 250 روپے فی من گنا خریدنے پر مجبورہیں کیونکہ گنے کے کاشتکار حکومت کے مقرر کردہ ریٹ 190 روپے فی من پر گنا شوگر ملز کو فراہم کرنے سے انکاری ہیں۔ 83 روپے کلو کی پیداواری لاگت سے بنائی گئی چینی شوگر ملیں مزید کچھ ہفتے 72 روپے کلو ہول سیلرز کو نہیں دے سکیں گے اور وہ چینی کے ایکس مل ریٹ کو 83 روپے کرنے پر مجبور ہوں گے جس کی وجہ سے ملک بھر میں چینی کے ریٹ میں اسی تناسب سے مزید اضافہ متوقع ہے ۔ اس ساری صورتحال میں یہ کہا جاسکتاہے کہ قوم مزید مہنگی چینی خریدنے کے لیے بھی تیار رہے ۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذ کر ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں بھی چینی مافیا متحرک رہا تھا اور قیمت 105روپے فی کلوگرام تک جا پہنچی تھیں۔ لاہور کے چینی ڈیلروں نے بھی قیمت مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چینی کی سپلائی میں کوئی کمی نہیں آئی تاہم شوگر ملز مالکان کو پتہ ہے کہ اس سال گنے کی پیداوار کم ہے۔
|
عکس گرانترین شام عکس گرانترین شام شام اشرافی ۷ میلیارد تومانی!! +تصاویر
|
سنە.. فێستیڤاڵێکی کەلتووری و هونەریی بۆ نەتەوە جیاوازەکانی ئێران – پەڕە 4 – Knwe.org سەرەکی » هەمەڕەنگ » سنە.. فێستیڤاڵێکی کەلتووری و هونەریی بۆ نەتەوە جیاوازەکانی ئێرانپەڕە 4
|
پیرس (اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین10ستمبر2008 )نیوکلیائی ریسرچ کے یورپی ادارے سرن کے زیر اہتمام دنیا میں طبیعات کا سب سے طاقتور تجربہ کیا گیا جس کا مقصد کائنات کی تخلیق کا راز جاننا ہے۔ اس تجربے کے دوران انجینئر ذرات کی ایک لکیرکو 27 کلومیٹر طویل زیر زمین سرنگ نما مشین سے گزارنے کی کوشش کریں گے۔ اگرچہ اس تجربے کے بارے میں تین دہائی پہلے سوچا گیا تھا لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ اسے عملی شکل دی جا رہی ہے۔ پانچ ارب پاوٴنڈ لاگت سے تیار ہونے والی اس مشین میں ذرات کو دہشت ناک طاقت سے آپس میں ٹکرایا جائے گا تاکہ نئی طبیعات میں تباہی کے علامتوں کو آشکار کیا جا سکے۔ اس تجربے کا بنیادی مقصد کائنات میں بِگ بینگ سے چند ثانیے بعد کے حالات کو از سرِ نو تخلیق کرنا ہے۔فرانس اور سوئٹزرلینڈ کی سرحد کے نیچے کھودی گئی اس بہت بڑی سرنگ میں ایک ہزار سلنڈر کی شکل کے مقناطیسوں کو ساتھ ساتھ رکھا گیا ہے۔ انہیں مقناطیسی سلنڈروں سے پروٹون ذرات کی ایک لکیر پیدا ہو گی جو 27 کلو میٹر تک دائرے کی شکل میں بنائی گئی سرنگ میں گھومے گی۔ سرنگ میں پروٹون ذرات کے ٹکرانے سے دو لکیریں پیدا ہوں گی جنہیں اس مشین کے اندر روشنی کی رفتار سے مخالف سمت میں سفر کرایا جائے گا۔ اس طرح ایک سیکنڈ میں یہ لکیریں گیارہ ہزار جست مکمل کریں گی۔ سرنگ کے اندر مقررہ جگہوں پر ذرات کی یہ لکیریں ایک دوسرے کا راستہ کاٹیں گی اور ان کے اس ٹکراوٴ کا مشاہدہ کیا جائے۔ سائنسدانوں کو امید ہے کہ اس تجربے کے دوران نئے سب آئٹم سامنے آئیں گے جن سے کائنات کی ہیت کو سمجھنے کے لیے بنیادی معلومات حاصل ہوں گی۔ واضح رہے کہ سرن کے زیر اہتمام ہونے والے اس تجربے میں پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے والے 2پاکستانی سائنسدان بھی شریک ہیں ۔
|
Shaistagi (شائستگی) Clean Urdu Mega-Dataset
📊 Dataset Overview
Shaistagi Clean is one of the most comprehensive, multi-task Urdu NLP collections available. It aggregates high-quality, cleaned data for pre-training, instruction-tuning, and specialized downstream tasks.
Key Statistics
| Metric | Value |
|---|---|
| Total Rows | ~16.2 Million |
| Total Tokens | ~1.22 Billion |
| Total Characters | ~1.73 Billion |
| Total Configurations | 37 |
| Total Parquet Files | 287 |
📦 Dataset Composition & Percentages
The dataset is categorized into functional blocks:
| Category | Estimated % | Configurations |
|---|---|---|
| LLM Pre-training | 65% | fineweb_pretrain, gemma_pretrain, generic_train_ur, tiny_stories, c4, cc100, hplt, cleaned_data, news_1m |
| Translation (NMT) | 15% | english_urdu_translation, parliament_translation, nmt, nmt_parquet |
| Classification | 10% | imdb_reviews_ur, sentiment, sentiment_v1_ur, urdu_sentiment_local, urdu_sarcasm, roman_urdu_toxicity |
| Specialized/Structured | 7% | addresses (982k+ rows), urdu_tts_transcription, wikiann_ur, xnli_ipa, urdu_dictionary |
| Reasoning & Instruction | 3% | urdu_reasoning, reasoning, reasoning_parquet, urdu_instruct_alpaca, error_correction |
| Poetry | ~1% | iqbal_poetry, organized_poetry_csv, poetry_by_poet, poetry_csv_main, urdu_poetry_general |
📋 Detailed Configuration Statistics
| Config | Rows | Tokens | Avg Tokens/Row | Description |
|---|---|---|---|---|
addresses |
982,837 | 33.2M | 33.78 | Urdu/Roman Urdu address mappings |
english_urdu_translation |
7,057,673 | 115.6M | 16.39 | Parallel EN-UR translations |
error_correction |
600,000 | 108.3M | 180.43 | Text error correction pairs |
fineweb_pretrain |
100,000 | 266.4M | 2664.03 | Long-form pretraining text |
gemma_pretrain |
245,153 | 200.3M | 817.15 | Gemma-formatted instruction data |
generic_train_ur |
3,731 | 253K | 67.85 | Urdu headlines with labels |
imdb_reviews_ur |
10,000 | 12M | 1201.53 | IMDB reviews in Urdu |
iqbal_poetry |
10,002 | 316K | 31.65 | Allama Iqbal poetry |
organized_poetry_csv |
17,609 | 1.3M | 73.52 | Organized poetry with labels |
parliament_translation |
6,374,673 | 363.7M | 57.06 | Urdu/Roman transliteration |
poetry_by_poet |
1,314 | 968K | 737.22 | Poetry organized by poet |
poetry_csv_main |
17,609 | 1.3M | 73.52 | Poetry collection |
sentiment |
83,309 | - | - | Roman Urdu sentiment |
sentiment_v1_ur |
987 | 78K | 79.61 | Urdu tweets sentiment |
tiny_stories |
357,900 | 73.6M | 205.63 | Children's stories in Urdu |
urdu_poetry_general |
1,323 | 679K | 513.23 | General Urdu poetry |
urdu_reasoning |
800 | 110K | 137.92 | Math/reasoning problems |
urdu_sarcasm |
19,949 | 1.7M | 85.76 | Sarcasm detection |
urdu_sentiment_local |
20,834 | 4.4M | 213.09 | Sentiment/toxicity |
urdu_tts_transcription |
4,306 | 314K | 73.06 | TTS transcription |
wikiann_ur |
21,972 | 773K | 35.21 | Named Entity Recognition |
xnli_ipa |
400,202 | 30.9M | 77.29 | Natural Language Inference |
🔍 What This Dataset Includes
1. 📚 Large-Scale Pre-training Data
Diverse Urdu web text from multiple sources (C4, CC100, HPLT, FineWeb) and synthetic data (Tiny Stories) to help models learn Urdu syntax and semantics.
2. 🏠 Structured Urdu Addresses
Nearly 1 million rows of Urdu-Roman Urdu address mappings, essential for logistics and geolocation models.
3. 💭 Sentiment & Nuance
Benchmark datasets including IMDB Urdu, Urdu Sarcasm, and multiple sentiment datasets for detecting emotional tone and figurative language.
4. 🌐 Cross-Lingual NLI (xnli_ipa)
Premises and hypotheses in Urdu for Natural Language Inference tasks (entailment, contradiction, neutral).
5. 📜 Poetry Collections
Multiple poetry datasets including Allama Iqbal's works, organized by poet, and general Urdu poetry.
6. 🔤 Named Entity Recognition (wikiann_ur)
Token-level NER annotations for identifying persons, locations, and organizations.
7. 🧠 Reasoning & Instruction Data
Math problems, reasoning tasks, and Alpaca-format instruction data in Urdu.
🚀 Quick Start
from datasets import load_dataset
# Load the default configuration (cleaned_data - largest)
ds = load_dataset("ReySajju742/shaistagi_clean")
print(ds['train'][0])
# Load specific configurations
addresses = load_dataset("ReySajju742/shaistagi_clean", "addresses")
poetry = load_dataset("ReySajju742/shaistagi_clean", "iqbal_poetry")
sentiment = load_dataset("ReySajju742/shaistagi_clean", "sentiment")
translation = load_dataset("ReySajju742/shaistagi_clean", "english_urdu_translation")
# Load web crawl data for pretraining
c4_data = load_dataset("ReySajju742/shaistagi_clean", "c4")
hplt_data = load_dataset("ReySajju742/shaistagi_clean", "hplt")
📁 Available Configurations
Click to expand all 37 configurations
Pre-training Data
fineweb_pretrain- FineWeb Urdu subsetgemma_pretrain- Gemma-formatted datageneric_train_ur- Generic training datatiny_stories- Urdu children's storiesc4- C4 Urdu subset (19 files)cc100- CC100 Urdu subset (12 files)hplt- HPLT web crawl (34 files)cleaned_data- Main cleaned data (139 files)news_1m- 1M news articles
Translation
english_urdu_translation- EN-UR parallel corpusparliament_translation- Parliamentary translationsnmt- Neural MT datanmt_parquet- NMT in parquet format
Classification & Sentiment
imdb_reviews_ur- IMDB reviewssentiment- General sentimentsentiment_v1_ur- Urdu tweetsurdu_sentiment_local- Local sentimenturdu_sarcasm- Sarcasm detectionroman_urdu_toxicity- Toxicity detection
Poetry
iqbal_poetry- Allama Iqbalorganized_poetry_csv- Organized poetrypoetry_by_poet- By poet namepoetry_csv_main- Main poetry CSVurdu_poetry_general- General poetry
Structured & Specialized
addresses- Address mappingsurdu_tts_transcription- TTS datawikiann_ur- NER annotationsxnli_ipa- NLI dataurdu_dictionary- Dictionary entriesurdu_instruct_alpaca- Alpaca instructions
Reasoning
urdu_reasoning- Reasoning tasksreasoning- General reasoningreasoning_parquet- Reasoning parqueterror_correction- Error correction
Other
roman_urdu- Roman Urdu textlocal- Local sourcesmendeley- Mendeley data
📄 License
This dataset is released under the Apache 2.0 License.
🙏 Citation
If you use this dataset in your research, please cite:
@dataset{shaistagi_clean_2026,
author = {ReySajju742},
title = {Shaistagi Clean: Comprehensive Urdu NLP Dataset},
year = {2026},
publisher = {Hugging Face},
url = {https://huggingface.co/datasets/ReySajju742/shaistagi_clean}
}
📧 Contact
For questions or feedback, please open an issue on the dataset repository.
- Downloads last month
- 248